The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں ورکرز کی مانگ میں اضافہ

ریاض : کرونا بحران کے دوران چھوٹے کاروباروں کی بندش نے سعودی عرب میں پارٹ ٹائمز ورکرز کی مانگ میں اضافہ کردیا۔

سعودی وزیر افرادی قوت و سماجی بہبود کا کہنا ہے کہ تین ہزار سے زائد ادارے لچکدار ملازمت (پارٹ ٹائم جاب) کے پلیٹ پر اندراج کرا چکے ہیں اور اب تک 2400 ملازمت کے معاہدوں کا اندراج ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں ریٹیل اور ہول سیل کے تجارتی اداروں، سامان فروخت کرنے والے مراکز، انجینیئرنگ کنسلٹینسیوں، تعمیرات اور کوسٹل لاجسٹک سروسز وغیرہ میں ملازمت کا نیا نظام متعارف کرایا ہے۔

اس پروگرام کے تحت کاروباری حضرات کو سستے ورکرز میسر آرہے ہیں اور ساتھ ہی ان آجروں کو اہم امور کی انجام دہی کےلیے پارٹ ٹائم ورکرز مل رہے ہیں، دوسری جانب مستقل ملازمت نہ کرسکنے والوں کو بھی روزگار مل رہا ہے۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ جزوقتی ملازمت حاصل کرنےو الوں میں 30 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔

وزیر افرادی قوت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے سرمایہ کاروں کی لاگت بھی کم ہو رہی ہے اور انہیں سستا لیبر مل رہا ہے اور ساتھ ہی انہیں پارٹ ٹائم جاب دینے والوں کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں نہیں دینی پڑتی اور نہ ہی نہایتہ الخدمہ والی ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں