The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں‌ ایک بار پھر مسلم خواتین کی توہین

کلب ہاؤس چیٹ ایپ پر مسلم خواتین کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر دہلی خواتین کمیشن نے پولیس سے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

بھارت میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہندو انتہا پسندی بڑھتی جارہی ہے جس کا نشانہ بالخصوص مسلمان اور مسلم خواتین ہیں مگر مودی کی سرپرستی اور مجرمانہ خاموشی نے انتہاپسندوں کے حوصلے بڑھا دیے ہیں جس سے سیکولر بھارت کا تصور دفن ہوچکا ہے۔

ہندو انتہا پسندی کی حالیہ مثال بھارت میں سوشل میڈیا پر کلب ہاؤس چیٹ ایپ ہے جس پر مسلم خواتین کے خلاف نازیبا کلمات اور ہرزہ سرائی جاری ہے جس پر حسب معمول حکمرانوں اور حقوق نسواں کے نام نہاد ہندو علمبرداروں کی زبانوں پر تالے پڑے ہیں لیکن دہلی خواتین کمیشن نے ان چیٹ پر ازخود نوٹس لے لیا ہے۔

دہلی خواتین کمیشن نے پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں کلب ہاؤس چیٹ ایپ پر مسلم خواتین کے خلاف نازیبا تبصرے کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے.

خواتین کمیشن کی جانب سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دہلی پولیس کے سائبر سیل سے کہا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے جنہوں نے ‘‘مسلم خواتین، ہندو لڑکیوں سے زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں’’ کے موضوع پر قابل اعتراض بحث میں حصہ لیا تھا۔

جاری بیان کے مطابق کمیشن کے پینل نے چیٹ پر ازخوڈ نوٹس لیا جس میں شرکا کو مسلم خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے صاف طور پر قابل اعتراض اور توہین آمیز تبصرے کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے، کمیشن نے پولیس کو ملزمان کو گرفتار کرکے 5 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دہلی خواتین کمیشن کی چیئرمین سواتی مالیوال نے چیٹ پر افسوس وحیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی نے ٹوئٹر پر ٹیگ کرکے کلب ہاؤس ایپ پر ہونے والی نازیبا آڈیو بات چیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا جس میں مسلم خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے انکے خلاف نفرت انگیز اور قابل اعتراض تبصرے کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہے کہ ملک میں اس طرح کے لگاتار واقعات رونما ہورہے ہیں جس کی روک تھام کے لیے ذمے داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ضروری ہوگیا ہے، اسی لیے میں نے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کرکے اس معاملے کی فوری ایف آئی آر درج اور ملزمان کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں