site
stats
اہم ترین

سندھ طاس معاہدہ، بھارت مذاکرات کے لیے تیار

نئی دہلی: ورلڈ بینک کی جانب سے سندھ طاس معاہدے پر غیرجانبدار ماہرین کا تقرر روکنے کے لیے بھارت نے پاکستان سے دو طرفہ مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کردی۔

بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے میڈیا بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ ’’بھارت ہمیشہ سندھ طاس معاہدے پرعملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے تاہم اس میں تکینکی سوالات اور اختلافات شامل ہیں جسے دور کرنے کے لیے پاکستان سے بات چیت کرنے اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔


پڑھیں: ’’ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی: پاکستان نے معاملہ ورلڈ بینک میں اٹھا دیا ‘‘


ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی دیگر معاملات پر دونوں ممالک کی حکومتوں نے مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کو حل کیا، سندھ  طاس معاہدے پر پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے تحفظات پر بات چیت کے لیے آج بھی تیار ہیں۔


مزید پڑھیں: ’’ ورلڈ بینک کی سندھ طاس منصوبے پر ثالثی کی پیشکش ‘‘


خیال رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے متعدد بار آبی جارحیت کے حوالے سے دھمکیاں سامنے آنے کے بعد پاکستان نے ورلڈ بینک سے مطالبہ  کیا تھا کہ وہ آبی تنازع کو حل کروانے میں کردار ادا کرے۔

جس کے جواب میں ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کو آبی تنازع جنوری تک حل کرنے کی مہلت دی تھی۔

ورلڈ بینک کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی حتمی تاریخ قریب آنے پر مودی حکومت نے ایک بار پھر دنیا بھر میں اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے پاکستان سے مذاکرات کرنے کی ہامی بھرتے ہوئے ورلڈ بینک کو تجویز دی ہے کہ اس معاملے میں جلد بازی سے کام نہ لیا جائے اور مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top