The news is by your side.

Advertisement

عائشہ کی موت نے معاشرے کو جھنجھوڑ دیا، مہم چلانے کی تیاری

احمد آباد : بھارت میں جہیز کی لعنت کے سبب عائشہ نامی لڑکی کی خود کشی کے واقعے نے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، خصوصاً مسلمان برادری میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔

احمد آباد کی رہائشی شادی شدہ عائشہ عارف خان کی خودکشی کے واقعے کے بعد آئمہ کرام فکرمند نظر آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہیز کے خلاف بیداری مہم چلائی جائے۔

عائشہ کی خود کشی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے عالم دین مفتی محمد منظور ضیائی نے اپنے بیان کہا ہے کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے اور اس کی کسی بھی حالت میں گنجائش نہیں لیکن عائشہ عارف خان یا وہ تمام لڑکیاں جن کو جہیز کے لیے طرح طرح سے ستایا جاتا ہے ان کی تکالیف کا بھی معاشرہ کو احساس کرنا ہوگا۔

مفتی ضیائی نے کہا کہ جہیز کی وجہ سے لاکھوں شادی شدہ مسلم بچیاں ناقابل برداشت اذیتوں سے گزر رہی ہیں۔ انہوں نے بہت ہی افسوس سے کہا کہ کبھی کبھی ان بچیوں کو زندہ جلا دینے یا کسی اور طریقے سے مار دینے یا خودکشی جیسے کسی انتہائی اقدام کی خبر پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں جیسا کہ عائشہ کے معاملہ میں پورا مسلم معاشرہ سکتے میں آگیا ہے۔

مفتی ضیائی نے ملک بھر کے تمام ائمہ مساجد سے اپیل کی ہے کہ وہ خطبہ جمعہ میں جہیز کی لعنت کو اپنا موضوع بنائیں، لوگوں میں اس کے خلاف شعور اجاگر کریں اور ان تمام بچیوں کے لیے جنہیں جہیز کے لیے پریشان کیا جارہا ہے ان کی کونسلنگ کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مہم میں مذہبی رہنما بھی نہایت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمہ مساجد سے اپیل کی ہے کہ وہ شادی کی ایسی تقریبات میں شرکت نہ کریں جہاں جہیز کا لین دین ہورہا ہو۔

مزید پڑھیں : ندی میں کود کر خودکشی کرنیوالی عائشہ کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی

واضح رہے کہ عائشہ نےخودکشی سے پہلے ایک ویڈیو بنائی اور اس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔ مرحومہ عائشہ نے اس ویڈیو میں اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ وہ اب تھک چکی ہے اور اب وہ دنیا چھوڑنا چاہتی ہے۔

عائشہ نے خود کشی سے پہلے اپنے والدین سے بھی بات کی اور والدین نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس نے خودکشی کرلی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں