گا ئے کی خریدوفروخت او ر ذبح پر لگی پابندی، عوام کا ماننے سے انکار -
The news is by your side.

Advertisement

گا ئے کی خریدوفروخت او ر ذبح پر لگی پابندی، عوام کا ماننے سے انکار

نئی دہلی : سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار بھارتی سرکار کی انتہا پسند  عروج پر پہنچ گئی، گائے کی خریدوفروخت اورذبح پر لگی پابندی کوعوام نے ماننے سے انکار کردیا ہے۔

مودی سرکار کا گا ئے کی خرید وفروخت او ر ذبح پر پابندی کے فیصلے کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے، وفاقی حکومت کے فیصلے کو مختلف ریاستوں نے مسترد کردیا۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی فیصلے کیخلاف ڈٹ گئیں اور گائے کی خرید وفروخت پر پابندی کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا ہے۔

کیرالہ کی حکومت نے حکم نامے پرسپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا، کیرالہ کے وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کیا کھائیں کیا نہیں یہ دہلی یا ناگپور سے جاننے کی ضرورت نہیں، گوشت کھانا چند مذاہب سے منسلک نہیں یہ بھارتی معاشرے کے طبقات کی روایات کا حصہ ہے، پابندی سے لاکھوں افراد بے روزگار اور چمڑے کی صنعت شدید متاثرہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے ثابت کردیاکہ اسے کون لوگ چلا رہے ہیں، پابندی ایسے وقت لگائی جارہی جب گائے کے تحفظ کے نام پر لوگوں کوقتل کیا جا رہا ہے۔

کیرالہ ،تامل ناڈو میں سینکڑوں افراد نے حکومت کیخلاف احتجاج کیا اور احتجاجا گائے کا گوشت پکایا، جس پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا۔


مزید پڑھیں : بھارت، گائے کی خرید وفروخت پر پابندی عائد


واضح رہے کہ مودی سرکار نے چھبیس مئی کو بھارت میں گائے، بیل سمیت دیگر جانوروں کی کھلے عام خرید وفروخت اور ذبح کرنے پر پابندی لگائی تھی تاہم پابندی عائد ہونے کے بعد یہ جانور ذبیحہ کیلیے فروخت بھی نہیں کیے جا سکیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں