بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

خون ٹیسٹ 7 اور ای سی جی اب صرف 25 روپے میں، نجی اسپتالوں کا بڑا اعلان

اشتہار

حیرت انگیز

پٹنہ: بھارت میں تعلیم اور صحت برسوں سے عام آدمی کے لیے سب سے مہنگے شعبے رہے ہیں۔ یہ کہاوت اب عام ہو چکی ہے کہ متوسط طبقے کا ایک فرد بھی اگر ایک بار اسپتال میں داخل ہو جائے تو اس کی پوری زندگی کی کمائی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

ایسے وقت میں بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے ایک غیر معمولی قدم سامنے آیا ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو مفت اور کم خرچ کوچنگ کے ذریعے مقابلہ جاتی امتحانات میں کامیابی دلانے والے فیصل خان عرف خان سر اب صحت کے میدان میں بھی انقلاب لانے جا رہے ہیں۔

بھارت کے خان سر نے اعلان کیا ہے کہ وہ پٹنہ میں نجی اسپتالوں میں ایک ایسی چین قائم کریں گے جہاں علاج اور جانچ کی قیمتیں ناقابلِ یقین حد تک کم ہوں گی، اس اسپتال میں خون کے ٹیسٹ صرف 7 روپے میں، ای سی جی 25 روپے، ایکس رے 35 روپے اور مکمل باڈی چیک اپ محض ایک ہزار روپے میں کی جائے گی۔

خان سر نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں اس منصوبے کے پیچھے اپنی سوچ، مقصد اور طریقۂ کار پر تفصیل سے بات کی، خان سر نے کہا کہ یہ اسپتال ہم نے اس تکلیف کو سامنے رکھ کر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک عام متوسط آدمی کو اسپتالوں میں پیش آتی ہے۔

خان سر کا کہنا تھا کہ سنگین بیماری میں لوگ قرض لیتے ہیں، زمین جائیداد بیچ دیتے ہیں۔ میرے دادا بچپن میں کہا کرتے تھے بھوپجوری میں کمائی پر نہیں، اس بات پر فخر کرو کہ تم سماج کو کتنا واپس دے سکتے ہو۔” میرا مقصد یہی ہے۔

خان سر کا کہنا تھا کہ نجی اسپتال شاید من مانے دام وصول کرتے ہوں، مگر ہم مرنے کے قریب انسان سے پیسہ نہیں مانگ سکتے۔ لگژری چیزوں پر ٹیکس بڑھاؤ، اے سی، چار پہیہ گاڑی، مالز میں خریداری مگر وینٹی لیٹر پر پڑے مریض سے پیسہ کیسے مانگو گے؟۔

انہوں نے کہا کہ آئی سی یو کا ایک دن 50 سے 70 ہزار روپے کا ہوتا ہے،  دس دن میں بل 5 لاکھ سے اوپر چلا جاتا ہے۔ اس کے بعد متوسط آدمی زیور گروی رکھتا ہے، آدھی قیمت پر زمین بیچتا ہے۔ میں دشرتھ مانجھی کی زمین سے ہوں، جس نے پہاڑ کاٹ کر راستہ بنایا۔ تو میں دوسروں پر کیسے چھوڑ دوں؟

خان سر نے مزید بتایا کہ میرے والدین بہت خوش ہیں۔ دادا اب نہیں رہے۔ میری ماں اسپتال میں ٹیسٹ کی قیمتیں طے کرتی ہیں۔ جیسے ڈائلیسس سے پہلے کریاٹینین ٹیسٹ ہوتا ہے، میں کہتا ہوں سات آٹھ روپے میں ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر قیمت بتاتے ہیں، میں ماں کو دکھاتا ہوں۔ اگر وہ کہہ دیں کم کرو تو بس وہی آخری فیصلہ ہوتا ہے۔

خان سر کا یہ اقدام محض ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ موجودہ صحت نظام پر ایک بڑا سوال بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ ماڈل واقعی عام آدمی کے لیے امید کی نئی کرن بن پاتا ہے یا نہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں