دنیا کی سب سے بڑی عمارت کا اعزاز یوں تو پینٹاگون کو حاصل ہے جہاں ہزاروں کا عملہ موجود ہے، تاہم اب بھارتی حکومت نے دنیا کی سب سے بڑی دفتری عمارت تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسی سال نومبر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مذکورہ عمارت کا باضابطہ افتتاح کریں گے، مودی کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا تھا اور سورت شہر میں تعمیر کردہ عمارت کو بھارتی معیشت کے لیے اہم قرار دیا تھا۔
ریاست گجرات کا سورت وہ شہر ہے جہاں سب سے زیادہ اصلی اور مصنوعی ہیرے تراشے اور تیار کیے جاتے ہیں جبکہ اسے دنیا کا ’جواہر دارالخلافہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 35 ایکڑ رقبے پر بنائی گئی عمارت کو ’سورت ڈائمنڈ بورس‘ کا عنوان دیا گیا، مختلف بلاکس کو ایک ریڑھ کی ہڈی نما عمارتی لائن کے طور پر تعمیر کیا گیا ہے جبکہ اس کی 15 منزلیں ہیں۔
یہاں بیک وقت 67 ہزار ملازمین کام کر سکیں گے، یہاں ہیرے تراشنے والے، ان کا زیور بنانے والے اور انہیں فروخت کرنے والے تاجروں کو جگہ دی جائے گی
سیمینار ہالز، کانفرنس رومز، ہوٹل، سینما ہالز، جم، کلبس اور دیگر تفریحی پوائنٹس بھی ’سورت ڈائمنڈ بورس‘ کا حصہ ہیں جب کہ 2 لاکھ اسکوائر فٹ پر مبنی پارکنگ بھی بنائی گئی ہے۔
Surat Diamond Bourse showcases the dynamism and growth of Surat's diamond industry. It is also a testament to India’s entrepreneurial spirit. It will serve as a hub for trade, innovation and collaboration, further boosting our economy and creating employment opportunities. https://t.co/rBkvYdBhXv
— Narendra Modi (@narendramodi) July 19, 2023
عمارت کی سیکیورٹی کے لیے تمام جدید آلات نصب کیے گئے ہیں جب کہ اس کی تعمیر میں 4 سال سے زائد کا عرصہ لگا ہے، اس کی لاگت تقریباً 3 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہے اور اسے عالمی ماہرین تعمیرات نے ڈیزائن کیا ہے۔
واضح رہے کہ ’پینٹاگون‘ اب تک سب سے بڑی دفتری عمارت ہے، جہاں بیک وقت ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں، جو جاسوس اور فوجی اہلکار ہوتے ہیںم تاہم بھارتی حکام ’سورت ڈائمنڈ بورس‘ کو دنیا کی سب سے بڑی دفتری یا کاروباری عمارت قراردیتے ہوئے اسے امریکی محکمہ دفاع کے دفتر ’پینٹاگون‘ سے بھی بڑا قرار دیے رہے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


