The news is by your side.

Advertisement

درد ناک واقعہ : دس اور بارہ سال کی بیٹیاں باپ کا جنازہ اٹھانے پر مجبور

پٹنہ : بھارت میں کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے بعد ہر جانب ایک خوف کا سا سماں ہے لوگ کرونا سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کررہے۔

بھارت کے پٹنہ ضلع میں ایک پریشان کن واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک شخص کی اچانک موت کے بعد علاقہ مکینوں نے اس کے کورونا سے متاثر ہونے کی افواہ پھیلا دی جس کے بعد اہل محلہ میں سے بھی کوئی  اس کے دروازے تک نہیں پہنچا۔

متوفی کی لاش سات گھنٹے تک گھر میں رکھی رہی۔ آخر کار تھک ہار مرنے والے شخص کی دس اور بارہ سال کی دو معصوم بیٹیوں نے ہی اپنے باپ کی ارتھی کو کاندھا دیا اور شمشان گھاٹ لے جاکر آخری رسومات ادا کیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق رام گڑھ گاؤں میں 32سالہ راجو سنگھ کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی جو گزشتہ روز چل بسا، علاقے کے کچھ لوگوں نے افواہ پھیلا دی کہ راجو کی موت کورونا سے ہوئی ہےجبکہ انتظامیہ کی جانب سے کورونا سے موت کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

افواہ پھیلتے ہی گاؤں کا کوئی بھی شخص ان کے گھر نہیں پہنچا۔ مقتول کی اہلیہ رو رو کر گاؤں والوں سے مدد کی بھیک مانگتی رہی لیکن کوئی بھی اس لاش کے قریب تک نہ آیا۔

بعد ازاں سات گھنٹوں بعد انتظامیہ کی مدد سے مقامی ہسپتال سے ایک پی پی ای کِٹ حاصل کی گئی جسے پہن کر مقتول کا بڑا بیٹا اور اس کی دو بیٹی ریتو (10) اور پریا (12) نے اپنے والد کی ارتھی کو کاندھا دیا اور شمشان گھاٹ لے گیے اور آخری رسومات ادا کیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں