site
stats
اہم ترین

کلبھوشن ملاقات: بھارت کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا، دفتر خارجہ

Kulbhushan Jadhav
پاکستان کی فراخ دلی اورسفارتکاری پر بھارت کا جواب نہ آنا مایوس کن ہے، دفترخارجہ

اسلام آباد: دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے معاملے پر بھارت کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان نے انسانی ہمدردی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی جاسوس کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کو ملاقات کی پیش کش کی تھی جس کے بعد اُن کی باضابطہ ویزہ درخواستیں دفتر خارجہ کو موصول بھی ہوئیں تھیں۔

خیال رہے کہ تین روز قبل پاکستان نے بھارتی د ہشت گرد کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے لیے ویزا دینے کی ہدایات جاری کی تھی۔

مزید پڑھیں: بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کی ماں اوربیوی ہفتے کو پاکستان پہنچیں گی

ذرائع کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو سے اہلیہ، والدہ کی ملاقات 25 دسمبرکوہوگی، ملاقات کے لیے جگہ کے تعین کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن سے ملاقات کے وقت بھارتی سفارت کار ساتھ ہوگا جبکہ ملاقات کے دوران پاکستانی سفارت کار بھی موجود ہوگا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ‘بھارت کی جانب سے کلبھوشن یادوو کی ملاقات کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی اہلیہ اور والدہ کے فلائٹ شیڈول سے آگاہ کیا گیا‘۔

ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ ’کلبھوشن سے ملاقات میں کون سا بھارتی سفیر موجود ہوگا اس بارے میں بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا، پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن کی اہلیہ اور والدہ کو پاکستان آنے کی اجازت دی مگر بھارت کی جانب سے  پاکستان کی فراخ دلی اور سفارت کاری کا کوئی جواب نہیں دیا گیا جو انتہائی مایوس کن ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن یادیوکی والدہ اوراہلیہ کی ویزہ درخواستیں موصول ‘ دفترخارجہ

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو اس وقت پاکستان میں قید ہے، بھارتی دہشتگرد کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد اس نے پاکستان میں دہشتگرد کارروائیاں کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

پاکستان کی فوجی عدالت نےکلبھوشن کوپھانسی کی سزاسنا رکھی ہے، جس پر بھارت نے دس مئی کو عالمی عدالتِ انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا اور سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کی درخواست دائر کی تھی۔

جس کے بعد عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کیس میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بھارت کو کلبھوشن تک قونصلر رسائی دے‘ اور امید ہے کہ پاکستان عالمی عدالت کا مکمل فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو سزا نہیں دی جائے گی۔

کلبھوشن کیس کی سماعت آئی سی جے میں اب جنوری 2018 میں ہونے کا امکان ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top