The news is by your side.

Advertisement

معذور شخص کا کورونا ویکسین سے متعلق ناقابل یقین دعویٰ، ماہرین بھی حیران

بھارت میں 4 سال سے  معذور 55 سالہ شخص  دلارچند نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین لگوانے کے اگلے روز اس کے پیر حرکت کرنے لگے اور قوت گویائی بھی بحال ہوگئی۔

دنیا ناقابل یقین واقعات سے بھری پڑی ہے، بعض اوقات ایسے  واقعات رونما ہوتے ہیں کہ ماہرین کا اسے من وعن تسلیم کرنا دشوار ہوتا ہے، ایسا ہی کچھ ہوا ہے بھارت میں ایک معذور شخص کے ساتھ ۔

بھارت میں جھارکھنڈ کے علاقے بوکارو کا رہائشی 55 سالہ دلارچند مندا جس کا 4 سال قبل ایک حادثے میں جسم کا نچلا حصہ مفلوج ہوگیا اور وہ چلنے پھرنے کے ساتھ بولنے سے بھی معذور ہوگیا تھا اب نہ صرف اپنے پیروں پر چل پھر رہا ہے بلکہ بول بھی رہا ہے۔

دلارچند کا کہنا ہے کہ اس نے رواں سال 4 جنوری کو کورونا سے بچاؤ کی کووی شیلڈ ویکسین لگوائی تھی جس کے اگلے روز یہ کرشمہ ہوگیا۔

غیرملکی نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے دلارچند نے کہا کہ میں اپنی خوشی بیان نہیں کرسکتا ہوں کہ ویکسین لگوانے کے بعد میری آواز  واپس آگئی ہے اور میں اپنے پیروں کو بھی حرکت دے سکتا ہوں۔

دلارچند تو اپنی صحتیابی سے خوش ہے لیکن اس اچانک صحتیابی نے طبی ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

بوکارو کے سول سرجن ڈاکٹر جیتندرا کمار کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دلارچند کو بولتا اور چلتا دیکھنا حیران کن ہے۔

ڈاکٹر جیتندرا نے اس حوالے سے مزید کہا کہ مریض کی صحت بحالی کو چند روز ہی ہوئے ہیں لیکن 4سال بعد اچانک اس طرح معذوری دور ہوجانا ناقابل یقین ہے، اسکے لیے ایک میڈیکل بورڈ بننا چاہیے جو  دلارچند کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لے اور طبی سائنسدان بھی اس حوالے  تحقیقات کریں۔

اسی حوالے سے پیتروار ہیلتھ سینٹر کے انچارج البیل کرکیتا کا کہنا ہے کہ دلارچند کی صحتیابی سے متعلق مصدقہ معلومات اور جوابات چند دن میں سامنے آجائیں گے جب طب کی دنیا میں اس کی بیماری اور اچانک صحتیابی سے متعلق ریسرچ  ہوگی۔

کرکیتا نے بتایا کہ دلارچند اور اسکے اہلخانہ نے اگن وادی کے ایک صحت مرکز سے 4 جنوری کو ویکسین لگوائی تھی جس کے اگلے روز وہ بولنے اور چلنے لگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں