The news is by your side.

Advertisement

لوک سبھا انتخابات: مودی کو بڑا دھچکا، دو وزرا نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرلی

نئی دہلی / ہما چل پردیش: بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہوتے ہی حکمراں جماعت کو بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ موجودہ اور سابق وزراء نے بی جے پی کو خیر باد کہہ دیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی سابق یونین منسٹر کرشنا تھریات نے بی جے پی چھوڑ کر دوبار کانگریس میں شمولیت کا اعلان کیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ’بی جے پی کے پاس ملک کی خوشحالی کے لیے کوئی وژن نہیں، مودی سرکار آنے کے بعد ہمارے ملک میں جس قدر غربت اور کرپشن پھیلی اس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی‘۔

دوسری جانب بی جے پی کے ہی بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں تعینات ہونے والے وزیر برائے توانائی انیل شرما نے بھی اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا استعفیٰ بھارتی وزیراعظم کو بھیج دیا، لوک سبھا کے انتخابات نئے پلیٹ فارم سے لڑوں گا کیونکہ اب مجھے احساس ہوا کہ عوام کے ساتھ مودی حکومت نے کچھ بھی اچھا نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: بھارتی انتخابات: پرتشدد واقعات میں 3 افراد ہلاک، دھماکا خیز مواد بھی برآمد

یاد رہے کہ بھارت میں لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کے 17 ویں انتخابات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو ہوا، جس کے تحت 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر ووٹنگ کا انعقاد کیا گیا، مجموعی طور پر 14 کروڑ 20 لاکھ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

بھارتی الیکشن کے پہلے مرحلے بالشمول مقبوضہ کشمیر سمیت مختلف ریاستوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، آندھرا پردیشن میں ہونے والی سیاسی تلخ کلامی نے اس قدر شدت اختیار کی کہ 3 افراد کی جانیں گئیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بارہ مولا میں بھارتی فوج نے فائرنگ کر کے 13 سالہ بچے کو شہید کیا۔

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے وادی میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور بھارتی فوج کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ کشمیریوں کو زبردستی بی جے پی کو ووٹ ڈالنے پر مجبو کیا جارہا ہے اور جو ایسا نہیں کررہا اُسے انڈین فورسز تشدد کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات: فن کاروں کے بعد سائنس داں بھی نریندر مودی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ وادی کے لوگ سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیں۔ انہوں نے مودی سرکار کو پھر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو وادی میں ظلم کی وجہ سے مزید آگے بھڑکے گی۔

لوک سبھا کے انتخابات 6 مراحل میں ہوں گے، 11 اپریل سے شروع ہونے والے الیکشن 13 مئی تک جاری رہیں گے، دوسرے مرحلے کے لیے 18 اپریل کو ووٹنگ ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں