دہلی (6 مئی 2026): مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرنے اور مستعفی ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی پارٹی کی شکست کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
ممتا بنرجی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکز میں مودی حکومت پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی انتخابات نہیں ہاری بلکہ نتائج کو “لوٹا گیا” ہے۔
وزیر اعلیٰ بنگال نے کہا کہ ’’ہم ہارے نہیں ہیں، اس لیے میں استعفیٰ نہیں دوں گی۔ یہ جمہوریت نہیں، بلکہ نتائج پر قبضہ ہے۔‘‘
انہوں نے الیکشن کمیشن پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن نے گندی چالیں چلیں۔ اصل حریف بی جے پی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن تھا۔‘‘
واضح رہے کہ انتخابی نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال کی 294 میں سے 207 نشستیں جیت کر پہلی بار ریاست میں حکومت بنانے کا راستہ ہموار کر لیا ہے۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس صرف 80 نشستوں تک محدود ہو گئی۔
یہ نتیجہ اس لحاظ سے بھی چونکا دینے والا ہے کہ ممتا بنرجی گزشتہ تین ادوار سے مسلسل اقتدار میں تھیں اور بنگال کو ان کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا۔
انتخاب میں ممتا بنرجی کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا جب وہ اپنے روایتی حلقہ بھوانی پور سے بھی ہار گئیں۔ انہیں ان کے سابق قریبی ساتھی اور اب بی جے پی رہنما سویندو ادھیکاری نے شکست دی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


