The news is by your side.

Advertisement

“کتیا کا افسوس کرنے والے ڈھائی سو کسانوں کی موت پر خاموش ہیں”

نئی دہلی : بھارتی ریاست میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک کتیا بھی مر جاتی ہے تو حکمران تعزیتی پیغام جاری کرتے ہیں لیکن ڈھائی سو کسانوں کی موت پر کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر ستیہ پال ملک کا کہنا تھا کہ کسان تحریک میں کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے صرف اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے یہ مسئلہ صرف سہارا قیمت (ایم ایس پی) کا ہے، اگر اس کو قانونی جامہ پہنا دیا جائے تو یہ معاملہ آسانی سے حل ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اس مسئلہ کو جلد حل ہونا چاہیے، میں ایک آئینی منصب پر فائز ہوں مڈل مین بن کر کام نہیں کرسکتا۔

میں صرف کسان رہنماؤں اور حکومت کے نمائندگان کو صرف صلاح مشورہ دے سکتا ہوں، میرا صرف اتنا ہی کردار ہے اس سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو فصل کی جائز قیمت نہ ملنے کا مسئلہ آج کا نہیں ہے بلکہ انگریزوں کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔

مزید پڑھیں : بھارتی کسانوں کی نئی حکمت عملی، مودی کے ہوش ٹھکانے آگئے

واضح رہے کہ زرعی قوانین کیخلاف بھارت کے کسانوں کا احتجاج مودی سرکار کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے جبکہ کسان کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

مزید پڑھیں : بھارت کسان تحریک، 100 دن میں کتنے کسان ہلاک ہوئے؟

دہلی بارڈرز پر کسان گزشتہ چار ماہ سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک واپس نہیں جانا چاہتے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کنڈلی بارڈ کے مقام پر عارضی جھونپڑیاں بنانا شروع کردی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں