The news is by your side.

Advertisement

مودی حکومت کی بے حسی : ایک اور کسان نے موت کو گلے لگالیا

نئی دہلی : بھارت میں جاری کسانوں کی تحریک رکنے کا نام نہیں لے رہی، مودی سرکار کی ہٹ دھرمی اور بےحسی کے باعث بے بس کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہوگئے، اموات کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔

مظاہروں کے دوران کچھ اموات بیماری اور سردی کی وجہ سے ہو رہی ہیں تو کچھ کسان مودی حکومت کے ضدی رویہ سے مایوس ہوکر خودکشی کررہے ہیں۔

اس حوالے سے ایک تازہ واقعہ دہلی یوپی کے غازی پور بارڈر پر پیش آیا ہے جہاں اتراکھنڈ کے کسان کشمیر سنگھ نے ایک خودکشی نوٹ لکھنے کے بعد پھانسی کا پھندا گلے میں ڈال کر زندگی ختم کرلی۔

اس سے قبل گزشتہ روز ہی 57سالہ گلتان سنگھ کی موت کے غم سے ابھی مظاہرین باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ ایک اور واقعہ نے انہیں مزید غم میں مبتلا کردیا۔

بھارتی میڈیا ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کشمیر سنگھ کا تعلق اتراکھنڈ کے علاقے بلاس پور سے تھا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ زرعی قوانین کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شامل تھا۔ ہفتہ کی صبح اس نے ایک خط لکھ کر بیت الخلا میں خود کو پھانسی لگالی۔

خبر ملتے ہی مظاہرین میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ کشمیر سنگھ کے خط میں موت کا ذمہ دار مرکز کی مودی حکومت کو ٹھہرایا گیا ہے جو کہ زرعی قوانین کو واپس کرنے کا مطالبہ نہیں مان رہی۔

کشمیر سنگھ نے اپنے خط آخری خواہش کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس نے لکھا کہ اس کی آخری رسومات پوتے اور بچے کے ہاتھوں دہلی یوپی بارڈر پر ہی ادا کی جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ آخر ہم کب تک یہاں سردی میں بیٹھے رہیں گے۔ حکومت سن نہیں رہی ہے اس لیے اپنی جان دے کر جا رہا ہوں تاکہ کوئی حل نکل سکے۔

واضح رہے کہ دہلی بارڈر پر جاری کسانوں کے مظاہرے میں کشمیر سنگھ کی خودکشی دراصل تیسرا ایسا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سَنت بابا رام سنگھ اور امر جیت سنگھ نے خودکشی کی تھی اور ان دونوں نے بھی اس کے لیے مرکز کی مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں