The news is by your side.

Advertisement

ٹک ٹاک سے پابندی اٹھا لی گئی

نئی دہلی: بھارت کی عدالت نے سوشل میڈیا کی موبائل ایپلیکشن ٹک ٹاک پر سے فوری پابندی ہٹانے کا فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی ریاست تامل ناڈو کی ہائی کورٹ نے گزشتہ دنوں ٹک ٹاک کو فحاشی پھیلانے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس پر فوری پابندی کا فیصلہ جاری کیا تھا۔ چینی کمپنی کی موبائل ایپ کے مالک بائٹ ڈانسی نے تامل ناڈو عدالت کے فیصلے کو چیلنجر کرتے ہوئے چینائی کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔

انہوں نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ہم اپنے پلیٹ فارم کی کڑی نگرانی کرتے ہیں اور خلاف ضابطہ ویڈیوز کو فوری طور پر ہٹا دیا جاتا ہے، ٹک ٹاک پر عائد ہونے والا عریانی پھیلانے کا الزام بے بنیاد اور غلط ہے۔

مزید پڑھیں: فحاشی پھیلانے کا الزام، بھارت میں ٹک ٹاک بند کردی گئی

بائٹ ڈانسی نے اپنی درخواست میں انکشاف کیا تھا کہ بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونے کے بعد سے کمپنی کو یومیہ پانچ لاکھ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے کیونکہ تیس کروڑ کے قریب بھارتی ایپلیکشن استعمال کرتے ہیں۔

چینائی کی عدالت نے ٹک ٹاک پر عائد ہونے والی پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں اس کے استعمال کی اجازت دے دی، بائٹ ڈانسی نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ’مستقبل میں کمپنی اپنی پالیسیوں کو مزید مربوط بنائے گی تاکہ بھارتی صارفین کے خدشات کو ختم کیا جاسکے‘۔

ٹک ٹاک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں عدالتی فیصلے پر بہت خوشی ہے کیونکہ یہ فیصلہ تیس کروڑ لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق ہے، ہمیں امید ہے صارفین ہمارے پلیٹ فارم کا مثبت استعمال کریں گے‘۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھارت میں 24 سالہ نوجوان نے خودکشی کی تھی، اہل خانہ نے نوجوان کی موت کا ذمہ دار ٹک ٹاک ایپ کو قرار دیا تھا جس کے بعد کمپنی نے ایکشن لیتے ہوئے تقریباً 60 لاکھ ویڈیوز اپنے پلیٹ فارم سے حذف کیں تھیں اور نئی پالیسی متعارف کرائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک کا ٹک ٹاک سے ٹکر لینے کا فیصلہ

یہ بھی یاد رہے کہ خلیجی ممالک سمیت روس اور میکسیکو میں بھی ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے چند فیصلے کیے گئے جس کے تحت 13 سال سے کم عمر بچے اپنا آئی ڈی نہیں بنا سکتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں