The news is by your side.

Advertisement

بھارت، 100 سے زائد کسان مظاہرین لاپتہ، اہل خانہ کو شدید خدشات

نئی دہلی: بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے 100 سے زائد مظاہرین لاپتہ ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کے اہل خانہ پریشانی کا شکار ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق چار روز قبل لال قلعہ پر پیش آنے والے واقعے کے بعد سے 100 سے زائد مظاہرین لاپتہ ہیں جبکہ پولیس نے صرف 18 کسانوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

پنجاب ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر ہونے والی کسان پریڈ میں شرکت کے لیے آنے والے سو سے زائد کسانوں کا کچھ معلوم نہیں ہورہا اور پولیس بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کررہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کسانوں کے اس طرح لاپتہ ہونے کی وجہ سے اہل خانہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔ پولیس نے جن 18 مظاہرین کی گرفتاری کی تصدیق کی اُن میں سے 7 کا تعلق نہال سنگھ گاؤں سے ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں کسان احتجاج بغاوت میں بدل سکتا ہے: امریکی ادارہ

پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ 26 جنوری کو پیش آنے والے واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر پشچم وہار تھانے میں درج کی گئی، ان کسانوں کو اُسی کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ اُن کے قبضے سے دو ٹریکٹر بھی برآمد کیے گئے ہیں۔

دہلی سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر منجندر سنگھ سرسا کا کہنا تھا کہ موگا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے گیارہ مظاہرین کو نانگلوئی پولیس نے گرفتار کر کے تہاڑ جیل منتقل کردیا جبکہ اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے 12 مظاہرین 26 فروری کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ بھارتی میڈیا کو پولیس ذرائع نے بتایا کہ مظاہرین کی گرفتاریاں علی پور اور نریلا کے قریب سے کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: مطالبات منظور نہ ہوئے تو خود کشی کرلیں گے، رہنما کسان تحریک

ذرائع کے مطابق مظاہرین کو پبلک پراپرٹی ایکٹ، قدیم یادگاروں اور آثار قدیمہ کے مقام و باقیات سے متعلق قانون اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ بھارتیہ کسان سنگھ (راجیوال) کے سربراہ بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ کسان یونینوں کو یوم جمہوریہ پریڈ کے بعد لاپتہ افراد کی فہرست موصول ہوئی ہے، جس کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں