(29 جنوری 2026): بھارتی حکومت کی نا اہلی سے مُہلک "نپاہ وائرس” خطہ میں پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔
ایشیائی ممالک نے بھارت میں نپاہ وائرس کی وبا کے بعد سرحدوں پر نگرانی سخت کردی ہے، ایشیا کے متعدد ہوائی اڈوں پر الرٹ جاری کردیا گیا۔
امریکی جریدہ واشنگٹن پوسٹ نے بھارت کو عالمی صحت کے خدشات کا مرکز قرار دے دیا، امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول نے نپاہ وائرس میں اموات کی شرح 40 سے 70 فیصد تک پہنچنے کا انتباہ جاری کردیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق تھائی لینڈ نے بھارت سے آنے والے مسافروں کیلئے اسکریننگ چیک پوائنٹس قائم کردیئے، تائیوان کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول نے نپاہ وائرس کو کیٹیگری فائیو خطرہ قرار دینے کا اعلان کر دیا۔
واشنگٹن پوسٹ کا کہنا تھا بین الاقوامی ادارے بھی بھارت میں صحتِ عامہ کے بحران کو عالمی خطرہ قرار دے چکے ہیں، واشنگٹن پوسٹ نے کہا عالمی ادارہ صحت نے نپاہ کو ترجیحی خطرناک وائرس قرار دے کر فوری تحقیق پر زور دیا ہے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق برطانیہ، نیپال، تھائی لینڈ، تائیوان اور سری لنکا نے بھارتی مسافروں کیلئے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا آغاز کر دیا ہے، برطانوی جریدہ دی انڈیپینڈنٹ بھی چین، میانمار، انڈونیشیا اور ویتنام کے بھارت کے سفر پر تحفظات بیان کرچکا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق مہلک وائرس کی موجودگی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز مختلف ممالک کے کھلاڑیوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، ماہرین کے مطابق بھارت میں نپاہ وائرس کی نگرانی کا نظام غیر مؤثر اور بالکل ناکارہ ہے۔
لئیق الرحمن دفاعی اور عسکری امور سے متعلق خبروں کے لئے اے آروائی نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں


