بھارت کی پاکستان دشمنی ،غلطی سے سرحد پار کرنے والے بچوں کو رہائی نہ مل سکی -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی پاکستان دشمنی ،غلطی سے سرحد پار کرنے والے بچوں کو رہائی نہ مل سکی

نئی دہلی : پاکستان دشمنی میں بھارتی حکام نے اپنے ہی عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دیئے، غلطی سے سرحد عبور کرنے والے دو بچوں کوان کے ماموں سمیت رہائی نہ مل سکی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی پاکستان دشمنی میں معصوم شہری بھی شکار ہونے لگے، غلطی سے سرحد عبور کرنے والے دوبچوں سمیت تین افراد عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ ہوسکے، اہلخانہ شدید کرب کا شکار ہے۔

نارووال کے رہائشی دو بچے دس سالہ بابراور بارہ سالہ علی رضا اپنے بیس سالہ ماموں شہزاد کے ساتھ بارہ جولائی 2016 کو راوی نہر کے کنارے غلطی سے سرحد عبور کرگئے۔

رپورٹ کے مطابق سرحد عبور کرنے کی وجہ بارڈر سے باڑ سے دور ہونا بتایا گیا، جس کا اعتراف خود بھارتی حکام نے عدالت میں کیا، 31 اگست2016 کو بھارتی ہائیکورٹ نے واضح طور پر کہا کہ بچوں نے غلطی سے سرحد پار کی لہٰذا ڈیڑھ مہینے کی سزا کے بعد واپس بھیج دیا جائے۔

اس دوران نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے متعد بار بچوں کے لئے قونصلر رسائی کی درخواست دی۔ 29 نومبر 2016 کو قونصلر رسائی دی گئی، ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے معاملہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کے سامنے اٹھایا، 25 اپریل 2017 کو بھارتی سیکرٹری خارجہ نے بچوں کو حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

پاکستانی حکام کی جانب سے لیگل نوٹس بھی بھیجا گیا اس کے باوجود بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔


مزید پڑھیں :  بھارتی فوج نے غلطی سے لائن آف کنڑول عبور کرنے والے پاکستانی لڑکے کو گرفتار کرلیا


ید رہے چند روز قبل بھارتی فوج نے غلطی سے لائن آف کنڑول عبورکرنے والے بارہ سالہ پاکستانی لڑکے کو گرفتار کرلیا تھا اور جاسوس قرار دیا،  پاکستانی لڑکے کی شناخت شفاق علی چوہان سے ہوئی تھی۔۔

کلبھوشن کی سزائے موت پر آگ بگولہ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی بچہ سرحدی تنصیبات اور بارڈر فورسز کی جاسوسی کر رہا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان کنٹرول پر کشیدگی برقرار ہے اور کشمیر کے تنازع پر دونوں ملکوں کےدرمیان باہمی تعلقات بھی بھی کشیدہ ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیر کو منقسم کرنے والی حد بندی لائن پر تعینات دونوں ملکوں کی افواج، غلطی سے سرحد عبور کرنے والوں کو اپنے ملکوں کو واپس کردیتی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں