The news is by your side.

Advertisement

بھارت کا اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن پر اعتراض

مودی حکومت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر عیاں ہوگیا، بھارت نے اسلامو فوبیا کیخلاف عالمی دن منانے کے فیصلے پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔

بھارت میں مودی حکومت کی مسلم دشمنی اور ہندو توا سوچ اب کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے، کبھی گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل، کبھی حجاب پر پابندی کی آڑ میں مسلمانوں پر مظالم تو کبھی مساجد، نماز اور اذان کے معاملے پر ہندو انتہا پسند بی جے پی رہنماؤں کے اشتعال انگیز بیانات دنیا بھر کے سامنے آچکے ہیں لیکن اب مودی سرکار نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کیخلاف عالمی دن پر بھی اعتراض اٹھادیا ہے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) نے منگل کو ‘اسلامو فوبیا’ سے نمٹنے کے لیے عالمی دن کے طور پر منانے کے لیے ایک قرارداد کی منظوری دی جس کے بعد بھارت نے اس قرارداد کی منظوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعتراض اٹھا دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے ٹی ایس تریمورتی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ‘ہم ان تمام کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں جو یہود دشمنی، عیسائی فوبیا یا اسلاموفوبیا سے متاثر ہوں۔

اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیا کے عالمی دن پر ووٹنگ سے قبل کہا کہ بھارت کو فخر ہے کہ تکثیریت ہمارے وجود کا مرکز ہے اور ہم تمام مذاہب اور عقائد میں یکساں تحفظ اور فروغ پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

بھارتی ایلچی نے مزید کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قرارداد میں لفظ ’تکثیریت‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے اور اسپانسرز نے ہماری ترامیم کو اس میں شامل کرنا مناسب نہ سمجھا۔

بھارت نے عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ دیگر مذاہب کے خلاف ہونے والے مظالم کیخلاف بھی آواز بلند کریں۔

اقوام متحدہ میں گزشتہ روز اسلامو فوبیا کیخلاف منظور ہونے والی قرارداد کو او آئی سی کے 57 مسلم کے علاوہ روس، چین سمیت دیگر 8 ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ میں گزشتہ روز اسلامو فوبیا کیخلاف منظور ہونیوالی قرارداد او آئی سی میں پیش کردہ پاکستانی قرارداد تھی۔

مزید پڑھیں: ‘اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا کیخلاف او آئی سی کی پاکستانی قرارداد منظور’

اس قرارداد کی منظوری پر وزیراعظم عمران خان نے عالم اسلام کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ آج اقوام متحدہ نے دنیا کو درپیش سنگین چیلنج کوتسلیم کر لیا ہے مسلم امہ کا اگلا چیلنج اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے قرارداد کا مقصد مسلمانوں کےخلاف منظم نفرت انگیز سلسلے کو روکنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں