The news is by your side.

Advertisement

پاکستان آج رات مذاکرات سے متعلق فیصلہ کرلے، سشما سراج

ممبئی: بھارت آخرکار مان ہی گیا کہ مسئلہ کشمر جامع مذاکرات کا حصہ ہے، مگر بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو مذاکرات کرنے ہیں تو دہشت گردی پر ہی بات ہوگی ۔

میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مذاکرات کا آغاز 1998ءمیں ہواتھا لیکن ممبئی حملوں کے بعد جامع مذاکرات کا نام مذاکرات کی بحالی رکھاگیااور طے شدہ جامع مذاکرات میں کشمیرکا مسئلہ بھی شامل تھا۔

سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان بھارت میں مذاکرات صرف دہشتگردی کے مسئلے پر ہوں گے، بھارت نےکشمیری رہنماوں کو تیسرا فریق تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا۔

بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھابات چیت کا مقصد صرف مذاکرات کا ماحول بنانا ہے سرتاج عزیز بھارت آئیں تو اُمید بن جائے گی، سشما سوراج نے مطالبہ کیا کہ پاکستان آج رات تک فیصلہ کرلے  کہ اُس نے مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں ۔

بھارت کی ہٹ دھرمی اب بھی برقرار ہے، بھارت نے مسئلہ کشمیر کو جامع مذاکرات کا حصہ تسلیم کیا مگر اس پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

دوسری جانب قومی سلامتی خارجہ امور کے مشیرسرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو شامل کیے بغیر بھارت سے مذاکرارت ممکن نہیں کسی پیشگی شرط کے بغیر بھارت جانے کیلئے تیار ہوں ،پاکستان بھارت سے غیر مشروط مذاکرات چاہتا ہے، حریت رہنماؤں کی گرفتاری اور نظر بندی پر تشویش ہے،عالمی برادری بھارت کے رویے کا نوٹس لے۔سرکاری سطح پر پاکستان اور بھارت کے مذاکرات منسوخ نہیں ہوئے،بھارت سے مذاکرات کیلئے پاکستان نے کبھی شرط نہیں رکھی ۔

Sartaj Aziz

سرتاج عزیز نے کہا کہ کشمیر ایجنڈے میں شامل ہے تو حریت رہنماؤں کی شمولیت کیوں نہیں۔بھارت نے دو ماہ میں سو سے زائد مرتبہ ایل او سی پر ورکنگ بانڈری کی خلاف ورزی کی ہے،بھارت اپنی شرائط پر پاکستان سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے،انہوں نے کہا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے پاکستان میں دہشت گردی کاروائیوں کے ثبوت موجود ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پوری قوم تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کرتی ہے، بھارت جانے پر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات بیس سال پرانی روایت ہے،خطے میں امن بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔مذاکرات میں بھارتی مداخلت کے ثبوت حوالے کرنا چاہتے تھے، بھارت سے تمام معاملات مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسائل بات چیت سے حل کرنے کا خواہاں ہے،بھارت مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات منسوخ کیے جانے کے خدشات افسوسناک ہیں، بھارت کو اوفا معاہدے کی پاسداری کرنی چاہئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں