The news is by your side.

Advertisement

انڈس واٹرکمیشن مذاکرات، پاکستان کامیاب،بھارت کی مایارپن منصوبے میں کام روکنے کی یقین دہانی

اسلام آباد : آبی تنازع پر پاکستان نے بھارت کو خاموش کردیا، بھارت نے مایار پن بجلی منصوبہ کے ڈیزائن میں تبدیلی کی یقین دہانی کرادی جبکہ لوئر کلنانی اور پکل دل کے منصوبوں کا بھی دوبارہ مشاہدہ کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے انڈس واٹر کمشنرز کے اجلاس میں بھارتی واٹر کمشنر پی کے سکسینا نے بھارتی وفد کی قیادت کی جبکہ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا نے پاکستان کی نمائندگی کی۔

مذاکرات کے دوسرے روز پاکستانی موقف کے سامنے بھارتی خاموش ہوگئے، پاکستان کی جانب سے مایار ڈیم پر اعتراضات اٹھائے گئے، پاکستان نے بتایا کہ ایک سو بیس میگاواٹ کے مایار ڈیم کا ڈیزائن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستانی مؤقف پر بھارت نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کی درخواست پر ڈیم کا ڈیزائن تبدیل کیا جائے گا۔

انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر نے بتایا کہ لوئر کلنائی اور پاکل دل پن بجلی منصوبوں پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی، اس کے علاوہ پاکستان نے بھارت سے آرٹیکل اڑتالیس کے تحت بگلیہار اور سلار کا ڈیٹا بھی طلب کیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت نے 2012 میں 120میگاوٹ کے مایار پن بجلی منصوبہ کا ڈیزائن پاکستان کو دیا تھا۔

پاکستانی انڈس واٹر کمشنرآصف بیگ مرزا نے مزاکرات ختم ہونے کے بعد گفتگو میں کہا کہ مذاکرات نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئے،بھارت نے مایار ڈیم پر پاکستان کے اعتراضات تسلیم کرلیے ہیں۔


مزید پڑھیں : سندھ طاس معاہدہ: پاک بھارت کمشنرز کا اجلاس پاکستان میں شروع


انہوں نے کہا کہ امید ہے مذاکرات دریاؤں کے پانی پر مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوں گے،پاک بھارت سیکرٹری سطح پر مذاکرات اپریل میں واشنگٹن میں ہوں گے،مذاکرات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسائل کرنے پر بات چیت ہوگی،انڈس واٹر کمشنرز کے آئندہ مذاکرات باہمی اتفاق سے جلد منعقد ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 19ستمبر 1960میں ہوا تھا،معاہدے پر صدر ایوب خان اور باھرتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے تھے،معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں بیاس،راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کو دیا گیا تھا جبکہ معاہدے کے تحت مغربی دریاؤں سندھ ،جہلم اور چناب کا کنٹرول پاکستان کو دیا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں