The news is by your side.

Advertisement

بھارتی مسلمانوں‌ پر مظالم، 200 سے زائد گھر نذر آتش، دو نوجوان جاں بحق

نئی دہلی: بھارتی ریاست ہریانہ کی پولیس نے ہندو انتہاء پسندوں کے ساتھ مل کر  تجاوزات کے نام پر آپریشن کا بہانہ بنا کر مسلمانوں کے 200 سے زائد گھر نذر آتش جبکہ دو نوجوانوں کو تشدد کر کے شہید کردیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر میرٹھ میں انسداد تجاوزات مہم کے دوران ہندو انتہاء پسندوں نے پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں مسلمانوں کے گھروں اور املاک کو نذر آتش کیا۔

مقامی انتظامیہ، کنٹونمنٹ بورڈ کے ارکان اور پولیس نے چھ مارچ کو میرٹھ کی کچی آبادی بھوسا منڈی میں تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کیا تھا، اسی دوران حکومت کی ایما پر انتہاء پسندوں نے تقسیم ہند سے قبل آباد 250 سے زائد گھروں کو جلا کر راکھ کیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں‌ مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اقوام متحدہ

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ نے شرپسندوں کے ساتھ مل کر بستی پر نہ صرف حملہ کیا بلکہ گھروں میں آتش گیر مادہ بھی پھینکا جس کے بعد خطرناک آگ بھڑک اٹھی۔

اُن کا کہنا پولیس اہلکاروں نے آگ بجھانے کی کوشش کرنے والے مسلمان مردوں اور عوروں پر تشدد کیا اور انہیں جائے وقوعہ سے بھگانے کے لیے اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔

دوسری جانب پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ ہے کہ علاقہ مکینوں نے اُن پر پتھراؤ کر کے اپنے گھروں کو خود آگ لگائی، آپریشن کے دوران چار افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔

پولیس کے مطابق شرپسندوں کی گرفتار کے بعد بھوسا منڈی، مہتاب تھیٹر کے علاقوں میں ہنگامے پھوڑ پڑے، اس دوران مشتعل افراد نے دو درجن سے زائد گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور 8 بسوں کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق انہوں نے عدالتی حکم پر آپریشن کا آغاز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام، انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے رپورٹ جاری کردی

دوسری جانب ہریانہ کی عدالت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کرلی۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ مکانات نذر آتش ہونے کے بعد وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ ہندوانتہا پسند اور پولیس اہلکار تمام قیمتی اشیاء اور نقدی بھی چھین کر لے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں