The news is by your side.

Advertisement

متنازع قانون، بھارت میں تابڑ توڑ گرفتاریاں، مؤرخ گرفتار، موبائل سروس معطل

نئی دہلی: بھارتی پولیس نے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر معروف تاریخ دان سمیت 30 افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے روکنے کے لیے موبائل سروس بھی بند کردی گئی۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز بھارت کے مختلف شہروں میں حکومت کی جانب سے منظور اور لاگو کیے گئے شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کیے گئے جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور بی جے پی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

بھارتی حکومت نے نئی دہلی اور بالخصوص لال قلعہ کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کی جس کے تحت چار لوگوں کے ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی بھی عائد کی گئی، اس کے باوجود عوام بڑی تعداد میں مظاہرے میں شریک ہوئے۔

بنگلور میں واقع ٹاؤن ہال کے قریب متنازع قانون کے خلاف احتجاج جاری تھا جس میں معروف مورخ رام چندر گہا بھی شامل تھے، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران تاریخ دان کو گرفتار کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس نے طالب علموں، نوجوانوں سمیت 30 سے زائد سیاسی شخصیات کو بھی حراست میں لیا۔ نئی دہلی سے سوراج انڈیا جماعت کے صدر یوگیندر یادو کو بھی پولیس نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

دوسری جانب پولیس نے نئی دہلی سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرے روکنے کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ نے لوک سبھا کے اجلاس میں متنازع شہریت قانون پیش کیا جسے اکثریت کی وجہ سے منظور کرلیا گیا تھا جس کے بعد ایوانِ بالا راجیو سبھا سے بھی اسے منظور کیا گیا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے متنازع قانون کے خلاف آواز بلند کی اور اسے ملک کے خلاف سازش قرار دیا، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے ’انڈیا بچاؤ مہم‘ کا آغاز بھی کیا، چند روز قبل بھارتی پولیس نے جامعہ ملیہ میں ہونے والے مظاہرے کو روکنے کے لیے معصوم طالب علموں کو بربریت کا نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی بھی ہوگئے تھے جن میں سے ایک کی آنکھ بھی ضائع ہوگئی۔

بھارتی پولیس نے مظاہرہ روکنے کے لیے کلاس رومز اور لائبریری میں موجود طالب علموں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد شدید عوامی ردعمل سامنے آیا اور مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے۔

علاوہ ازیں آسام اور جنوبی علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ ہے جبکہ پولیس کی فائرنگ سے متعدد مظاہرین ہلاک بھی ہوچکے ہیں، حکومت نے ہلاکتوں کو چھپانے کے لیے میڈیا پر دباؤ ڈالنا بھی شروع کردیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں