بٹھندا (18 فروری 2026): بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع برنالہ کے ایک گاؤں سندھو کلا میں 2 منزلہ گھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پنجاب کے ضلع بارنالہ کے ایک کسان نے اس لیے اپنے دو منزلہ مکان کو تقریباً 300 فٹ منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ آنے والے ایکسپریس وے کے منصوبے کے لیے جگہ خالی کی جا سکے۔
30 سالہ سکھپریت سنگھ کا یہ گھر بھارت مالا منصوبے کی مجوزہ ہائی وے کی زد میں آ رہا ہے تو مکان کا مالک گھر کو گرانے کی بجائے دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے گھر کو روزانہ 3 سے 4 فٹ تک اپنی نئی جگہ کی طرف کھسکایا جا رہا ہے۔
بھارت میں اس طرح گھر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اگرچہ انوکھا واقعہ ہے لیکن عمارت سازی کے ماہرین اس طریقے کو درست نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح گھر کو منتقل کرنے سے گھروں کی مضبوطی کو نقصان پہنچتا ہے اور ایسے گھر زلزلے کی شدت برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
اب ہم مرنے کے بعد بھی پوسٹ کر سکیں گے! میٹا نے حیران کن اے آئی پیٹنٹ حاصل کر لیا
یہ گھر سکھپریت سنگھ نے 60 لاکھ روپے میں خریدی گئی زمین پر 2017 میں تعمیر کیا تھا اور یہ تقریباً 2,800 مربع فٹ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ بعد میں بھارتمالا منصوبے کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے اس علاقے کا سروے شروع کیا اور 2023 میں یہ زمین ایکسپریس وے کے لیے حاصل کر لی گئی۔
سکھپریت کو 60 لاکھ روپے معاوضہ پیش کیا گیا، جسے اس نے قبول بھی کیا لیکن وہ اپنے گھر کو توڑا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا، اس لیے اس نے درخواست کی الائنمنٹ میں تبدیلی کی جائے، وہ احتجاج کے طور پر موبائل ٹاور پر بھی چڑھا لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر کار تقریباً تین ماہ قبل اس نے معاوضہ قبول کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ اپنے موجودہ مقام سے تقریباﹰ 300 فٹ دور اپنی ہی زمین پر اپنے گھر کو منتقل کرے گا۔
اس نے موگا میں واقع ایک گھر شفٹنگ کمپنی کو 15 لاکھ روپے میں ملازم رکھا اور مکمل عمارت کو آگے بڑھانا شروع کر دیا، سکھپریت کے مطابق کمپنی نے تقریباً دو ماہ پہلے کام شروع کیا ہے، 10 مزدور روزانہ 3 سے 4 فٹ گھر کو آگے کھسکاتے ہیں، تاہم سرد موسم کی وجہ سے یہ رفتار کم ہو کر 2 فٹ روزانہ رہ گئی ہے، اور اب اسے حتمی مقام تک منتقل کرنے میں تقریباً 3 ماہ اور لگیں گے۔
کمپنی کے مالک کا کہنا تھا کہ لوہے کے چینلز کے ذریعے عمارت کو انتہائی محفوظ طریقے سے منتقل کیا جاتا ہے اور تمام حفاظتی احتیاطی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


