The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی آبی جارحیت ،66 ہزار کیوسک پانی کا سیلابی ریلہ آج شام پاکستان میں داخل ہوگا

لاہور : بھارت کی آبی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، بھارت نے ہری کے ہیڈورکس کے بند کھول دیئے، جس کے باعث 66 ہزار کیوسک پانی کا سیلابی ریلہ آج شام پاکستان میں داخل ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی آبی جارحیت کا سلسلہ تھم نہ سکا، بھارت کی جانب سے دریائے ستلج پر ہری کےہیڈورکس کے گیٹ کھول دئیے، جس کے باعث 66 ہزارکیوسک پانی کاسیلابی ریلہ آج شام 5بجےپاکستان میں داخل ہوگا۔

دریائےستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ سیلاب سے قصور، بہاولنگر، پاکپتن، وہاڑی اور بہاولپور متاثر ہوں گے۔

دریا کے ارد گرد موجود آبادیوں کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جس کے لئےدریائے ستلج کے کنارے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

سیلاب کی تازہ ترین صورتحال

دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، پانی کی آمد 33ہزار200 کیوسک ہے اور نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی ہوئی ، ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 29 ہزار 800 کیوسک رہ گیا۔

دریائے راوی میں بھی پانی کی آمد میں کمی ریکارڈ کی گئی اور جسر کے مقام پرپانی کی آمد 25 ہزار کیوسک ہے جبکہ دریائے راوی میں 60 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا ہیڈ سدھنائی سے گزرے گا۔

مزید پڑھیں : بھارت نے مادھو پور ہیڈ ورک کے بند کھول دیئے، سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا

شاہدرہ کے مقام پر 24 گھنٹےمیں پانی کی صورتحال معمول پرآجائےگی۔

فلڈ ریلیف کیمپس بھی قائم کردئیے گئے ہیں جبکہ متعلقہ محکموں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی بھارت نے مادھو پور ہیڈورک کےبند کھول دیئے تھے ، جس سے دریائےراوی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں