The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ، امریکی رپورٹ

واشنگٹن : امریکی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سال 2015 کے دوران مذہبی انتہاپسندی میں اضافے کا انکشاف کیاگیاہے.

تفصیلات کےمطابق امریکی کمیشن بین الاقوامی مذہبی انتہاپسندی کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ حکمران جماعت بی جے پی ہندو انتہاپسندوں کی حمایت کررہی ہے، جس سے اقلیتوں کے خلاف مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہوا ہے.

رپورٹ کے مطابق اقلیتوں خاص طور پر عیسائیوں، مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف بھارت میں متعدد تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور ان کاروئیواں میں ہندو انتہا پسند ملوث ہیں.

بھارت میں پولیس کے تعصب اور مذہبی جرائم پر خاموشی سمیت عدالتی فیصلوں میں کوتاہیوں سے ملک بھر میں دیگر قومیں اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں.

بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں اقلیتوں کو حکمران جماعت کے سیاست دانوں کی جانب سے متعدد پرتشدد حملوں اور جبری تبادلوں کا سامنا ہے، جس سے ملک میں انتاپسندی میں اضافہ ہورہا ہے تاہم انتہاپسندوں کو حکومت کی بھرپور حمایت حاصل ہے.

گذشتہ ایک سال کے دوران بھارت میں مسلم کمیونٹی پر تشدد کرنے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبی مہمات چلانے میں اضافہ ہواہے.

حکمران جماعت اور آرایس ایس کے ارکان مسلم آبادی میں اضافے کو ہندو مذہب کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں،ان کے مطابق بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کے ذریعے ہندووں کو اقلیت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،حکمران جماعت کے رہنما یوگی آدتیہ ناتھ اور ساکشی مہاراج نے پارلیمنٹ میں مسلم آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے قوانین بنانے کا مطالبہ کیا ہے.

گذشتہ سال عیسائیوں کے خلاف تشدداور ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ حکومت کی خاموشی سے ہندو انتہاپسندوں کی کاروائیوں میں مزید اضافہ ہورہا ہے.

سال 2015 میں صرف عیسائیوں کے خلاف 365 بڑے حملوں کے واقعات کو ریکاڈ کیاگیا، جس میں 8000 سے زیادہ عیسائی متاثر ہوئے تاہم سال 2014 عیسائیوں کے خلاف پرتشددواقعات کی تعداد120 تھی.

نومبر 2015 میں ہندو انتہاپسندوں نے تلنگانہ ریاست میں ایک نجی گھر میں عبادت کرنے والے 40 عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک حاملہ عورت کا قتل بھی شامل تھا، جبکہ فروری 2016 میں 35 افراد کے ہجوم نے تامل ناڈو ریاست میں 3 پادریوں کو ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا.

پولیس کی جانب سے ہندو انتہاپسندوں کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنا اور اقلیتوں کو تحفظ فراہم نہ کرنا ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں