ممبئی: بھارت میں حکومت کی جانب سے صارفین کے فون کی لوکیشن کو سیٹلائٹ کے ذریعے ٹریک کرنے کے لئے غور شروع کردیا گیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیلی کام انڈسٹری کی ایک تجویز پر غور کیا جارہا ہے کہ اسمارٹ فون کمپنیوں کو سیٹلائٹ لوکیشن ٹریکنگ فیچر کو فعال کرنا ہوگا۔ حالانکہ ایپل، گوگل اور سیمسنگ جیسی کمپنیوں نے رازداری کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی پہلے ہی مخالفت کردی ہے۔
سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی او اے آئی) نے حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ اگر حکومت اسمارٹ فون کمپنیوں کو اے-جی پی ایس ٹیکنالوجی کو فعال کرنے کا حکم دے گی، تبھی صارف کے درست لوکیشن کا علم ہوسکے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس ٹیکنالوجی میں سیٹلائٹ سگنل کے ساتھ سیلولر ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے فون کی لوکیشن سروس ہمیشہ کے لئے آن رہتی ہے اور صارف کے پاس اسے غیر فعال کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ ابھی صارف کا لوکیشن معلوم کرنے کے لیے سیلولر ڈیٹا کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے صحیح لوکیشن معلوم نہیں ہوسکتی۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے گزشتہ روز اس حوالے سے اسمارٹ فون انڈسٹری کے افسران کی ایک میٹنگ بلائی تھی، مگر فی الحال اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
اسمارٹ فون کمپنیاں ایپل اور گوگل کے مطابق مذکورہ فیصلہ نافذ نہیں ہونا چاہئے، دنیا میں کہیں ایسا نہیں ہوتا، جہاں ڈیوائس کی سطح پر لوکیشن کو ٹریک کیا جائے۔
ایپل نے مودی سرکار کا حکم ماننے سے انکار کر دیا
آئی سی ای اے کے مطابق اس تجویز سے لیگل، پرائیویسی، اور نیشنل سیکورٹی سے متعلق کئی خدشات ہیں۔ صارفین میں افسران، جج اور صحافی سمیت ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن کے پاس حساس معلومات ہیں۔ لوکیشن ٹریکنگ سے ان کی حفاظت بھی خطرے بھی پڑ جائے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


