انوکھی بیماری میں مبتلا ‘بھیڑئیے جیسے چہرے والا’ بھارتی بچہ کون ہے؟
The news is by your side.

Advertisement

انوکھی بیماری میں مبتلا ‘بھیڑئیے جیسے چہرے والا’ بھارتی بچہ کون ہے؟

نئی دہلی : بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے رہائشی 13 سالہ لڑکے للت پیٹیدار کے پورے جسم پر بال ابھر آئے، جس کے باعث اسے پہلی مرتبہ دیکھنے والے خوف میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیا پردیش کے گاؤں رتلام میں ایسا عجیب الخلقت بچہ بھی موجود ہے جس کا چہرہ تک بالوں سے ڈھکا ہوا ہے، متاثرہ لڑکے کے چہرے سمیت پورے جسم پر ایک عجیب و غریب بیماری کے باعث بال موجود ہیں۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ للت پیٹیدار کو ’ویروولف سینڈروم‘ نامی بیماری لاحق ہے، اس عجیب و غریب بیماری میں مبتلا لوگوں کا چہرے سمیت پورا جسم کئی سینٹی میٹر تک لمبے بالوں میں ڈھک جاتا ہے۔

ویروولف سینڈروم نامی بیماری میں مبتلا 13 سالہ بچے کو پہلی مرتبہ دیکھنے والے افراد خوف زدہ ہوجاتے ہیں تاہم مقامی افراد للت سے مانوس ہوچکے ہیں اور اسے دیکھ کر عجیب محسوس نہیں کرتے۔

عجیب و غریب بیماری سے لڑنے والے بچے کا کہنا تھا ’میرے دوست بہت اچھے ہیں جن کے ساتھ میں کھیلتا رہتا ہوں لیکن کوئی انجان لوگ مجھے دیکھتے ہیں تو بندر کہہ کر مخاطب کرتے ہیں اور پتھر بھی مارتے ہیں۔

للت کو امید ہے مستقبل میں اس کی سرجری ہوجائے گی جس کے بعد دوسرے بچے اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے خوف زدہ نہیں ہوں گے۔

للت پیٹیدار کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا تھا کہ میں بھی ایک عام انسان ہوتا لیکن اب میں عادی ہوچکا ہوں اور خود سے مطمئن ہوں کیوں کہ انوکھی بیماری نے ہی مجھے دوسروں سے مختلف کیا ہے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ للت ایسی صورتحال میں بھی خوشحال زندگی گزار رہا ہے اور اس کا خواب ہے کہ وہ ایک دن ایماندار پولیس افسر بننے کے بعد اپنے والدین کی ضرور معاونت کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ بچے کی 42 سالہ والدہ نے بتایا کہ للت پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے جو بہت دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا، اسی لیے للت مجھے عزیز ہے۔

للت کے والد نے میڈیا کو بتایا جب میرا بیٹا دو برس تھا تو میں اسے لے کر شہر کے بڑے اسپتال تاکہ ڈاکٹرز سے اس بیماری کا علاج کروایا جاسکے۔

متاثرہ بچے کے والد کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم نے للت کا معائنہ کرنے  بعد بتایا کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے اگر کوئی علاج نظر آیا تو آپ کو ضرور آگاہ کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں