The news is by your side.

Advertisement

اپنے حق کیلئے خود سوزی کی کوشش کرنے والے نوجوان کی دکھ بھری داستان

نئی دہلی : بھارت میں بڑھئی کو دو سال کی جدوجہد کے بعد اس کی دکان مل گئی، جس کے لیے اس نے خود سوزی کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔

بھارتی ریاست اتر پردیش کے بارہ بنکی کے رہائشی نوجوان نصیر جو بڑھئی کا کام کرتا ہے، اسے اس کی دکان سے محروم کردیا گیا تھا، دو سال تک احتجاج کرنے کے بعد نصیر کو بالآخر دکان مل گئی۔

ریاست اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیشے سے بڑھئی نصیر کے کنبے کو جمہوری طاقتوں کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی ہے۔ دو برس تک لمبی لکھا، پڑھی، دھرنا اور پھر آخر میں خود کو نذر آتش کرنے کی کوشش کے بعد نصیر کو اپنی دکان حاصل ہو پائی ہے۔

اسے دکان کے لئے جگہ دلانے میں پولیس انتظامیہ اور کچھ افراد کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ نئے سال پر اسے دکان کے طور پر بڑا تحفہ حاصل ہوا ہے، اب وہ نئے سال سے نئی زندگی شروع کرنا چاہتا ہے۔

بارہ بنکی کے لکھپیڑا باغ محلے کے نصیر کی آواس وکاس محلے میں فرنیچر کی دکان تھی اور یہ جگہ 1997 میں وہاں کی انتظامیہ نے اسے کرائے پر الاٹ کر رکھی تھی۔

سال 2018 میں نصیر کی دکان کو غیر قانونی تجاوزات قرار دے کر منہدم کر دیا گیا اور اس کا تمام سامان بھی ضبط کرلیا گیا تھا، جس وقت نصیر کی دکان گرائی گئی اس وقت کوئی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ نصیر اپنی جگہ صحیح ہے۔

اس واقعے کے بعد سے نصیر اور اس کے اہل خانہ مسلسل مظاہرے دھرنا اور آخر میں خود کو نذر آتش تک کر ڈالنے کی کوشش کرتے رہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

دو ماہ قبل جب شہر کوتوال پنکج سنگھ اس کے گھر کا معائنہ کرنے پہنچے تو اس کے گھر میں نہ بجلی تھی اور نہ ہی کھانے پینے کی اشیاء تھیں۔ یہ صورت حال دیکھ کر پولیس نے اس کی مدد کی۔

انتظامیہ نے اسے قریب ہی ایک جگہ مہیا کر دی ہے۔ انتظامیہ اور کچھ افراد کی مدد سے نصیر نے کچھ فرنیچر بھی خرید لیا ہے۔ اب نصیر کو لگتا ہے کہ اس کی زندگی بہتر ہو جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں