The news is by your side.

Advertisement

خواتین یاد رکھیں، بھارت آپ کا مقبرہ بھی بن سکتا ہے

استنبول : مقبوضہ کشمیر بھی ننھی آصفہ پردرندگی کے افسوسناک واقعے پر دنیا بھرمیں بھارت کی جگ ہنسائی ہورہی ہے ، استنبول ائیرپورٹ پر شہریوں نے  ننھی آصفہ کو انصاف دلانے کیلئے  ٹی شرٹس پہن کر احتجاج کیا، جس میں پیغام دیا گیا کہ  اپنی خواتین کو بھارت بھیجنے سے پہلے ہوشیار ہو جائیں، خواتین یاد رکھیں، بھارت آپ کا مقبرہ بھی بن سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق معصوم آصفہ سے درندگی کےبعد پوری دنیا میں بھارت کے خلاف آواز اٹھنا شروع ہوگئیں، استنبول ائیرپورٹ پرنوجوانوں نے ٹی شرٹس پہن کر احتجاج کیا ، ٹی شرٹس پر مختلف عبارتیں درج تھیں، جس میں خواتین کو بھارت جانے سے خبردار کیا گیا۔

ٹی شرٹس پر درج عبارتوں میں لکھا تھا کہ بھول کر بھی بھارت نہ جانا، بھارت میں گائے کی عزت ہے، خواتین بے عزت ہیں، اپنی خواتین کو بھارت بھیجنے سے پہلے ہوشیار ہو جائیں۔

ایک اور عبارت میں پیغام دیا کہ خواتین یاد رکھیں، بھارت آپ کا مقبرہ بھی بن سکتا ہے، کوئی شرم ہوتی ہےکوئی حیا ہوتی ہے۔

دوسری جانب پچاس سابق بیوروکیٹس نے وزیراعظم نریندرمودی کو شرم دلانے کیلئے خط بھی لکھ دیا، جس میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت اپنی ذمے داری ادا کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔

خط میں لکھا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آصفہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد بھارتی حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔

پچاس سابق بیوروکیٹس نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری طوپر پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائیں، آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، ہر صورت میں آصف کو انصاف دلائیں۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چرواہے کی بیٹی آصفہ بانو کو جنوری میں مویشی چرانے گئی تھی، جسے سات ہندوپولیس اہلکاروں نے اغواکیا اور مندرمیں قید کرکے چار روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کرکے جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا۔

واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ملزمان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر زور پکڑ گیا جبکہ پوری دنیا بھارت سے مطالبہ کررہی ہے کہ آصفہ بانوکوانصاف دو۔

آصفہ بانو کے والدین نے پولیس اورانتظامیہ کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹھ سالہ معصوم بچی نے ان کا کیا بگاڑا تھا ۔

بالی وُڈ اداکار انوشکا شرما ، پریانکا چوپڑا ، نواز الدین صدیقی ،زائرہ وسیم اور دیگر نے مجرموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں