The news is by your side.

بھارت بھر میں سکھوں نے خالصتان کے پرچم لہرا دیے

سکھوں نے بھارت کا یوم آزادی منانے سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کی ترنگا لہرانے کی مہم مسترد کردی اور گھروں پر خالصتان کے پرچم لہرائے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت کے یوم آزادی پر وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے عوام کو گھروں پر ترنگا لہرانے کی اپیل کی تھی تاہم ملک بھر کے سکھوں نے اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کا یوم آزادی منانے کے بجائے 15 اگست کو اپنے گھروں پر خالصتان کے جھنڈے لہرائے۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

سیاسی جماعت شرومنی اکالی دل کے سربراہ سمرن جیت سنگھ مان نے ہر گھر ترنگا لہرانے کی بھارتی مہم کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا اور سکھوں سے درخواست کی تھی کہ وہ 15 اگست کو اپنے گھروں اور دفاتر پر نشان صاحب لہرائیں۔ اس اپیل پر عمل کرتے ہوئے سکھوں نے نہ صرف گھروں پر خالصتان کے جھنڈے لہرائے بلکہ ریلیاں نکالیں اور نظر بند سکھ رہنماؤں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سلسلے میں امرتسر میں گولڈن گیٹ سے اکال تخت صاحب تک احتجاجی مارچ بھی کیا گیا۔

سمرن جیت سنگھ مان نے ترنگے کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سکھ ایک آزاد اور ایک مختلف قوم ہے انہوں نے بھارتی افواج کودشمن کی فورسز قرار دیا۔ ان کی پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں نے اپنے ہاتھوں میں خالصہ کے جھنڈے لیے قصبے میں مارچ کیا جوملک بھر کی مختلف جیلوں میں بند سکھ نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ یہ مارچ ترنگا لہرانے کی بھارتی حکومت کے خلاف اورسکھ قیدیوں کی رہائی کے لیے نکالا گیا ہے۔

سکھوں کی ثقافتی اور تعلیمی تنظیم دمدمی ٹکسال کے رہنماؤں اور دیگر سکھ تنظیموں نے مارچ میں شرکت کی۔ شرکا نے خالصہ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے 75 ویں یوم آزادی پر سکھ آج بھی غلام ہیں۔ ایک اور تنظیم کھالڑا مشن آرگنائزیشن اور انسانی حقوق کی انصاف کمیٹی کے کارکنوں نے ترن تارن میں سکھ نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج درج کرایا اور سسٹم میں مساوات قائم کرنے کے لیے کرتار پور ماڈل کے نفاذ پر زور دیا۔

یوتھ سکھ فیڈریشن بھنڈرانوالہ کے رنجیت سنگھ نے کہا کہ بھارت کے ترنگے اور بھارتی آئین سے انہیں کوئی غرض نہیں ہے۔ اسیر سکھ اپنی سزا پوری کرنے کے بعد بھی جیلوں میں ہیں جو اپنی بالادستی ثابت کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اسی وجہ سے وہ یہ مارچ کر رہے ہیں۔ سکھوں کی تنظیم شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی نے ’مینارِ فتح‘ پر ترنگوں کی روشنی کرنے پر اعتراض کیا اور اسے’سکھوں کے جذبات سے کھیلنے کا عمل قرار دیا۔ واضح رہے کہ مینارِ فتح سکھ جنرل بابا بندہ سنگھ بہادر کی سرہند پر فتح کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں