The news is by your side.

Advertisement

بھارت نے آسام میں مقیم 19 لاکھ مسلمانوں کی شہریت واپس لے لی

نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکارکی مسلمان دشمنی عروج پرہے، ریاست آسام میں رہائش پذیرانیس لاکھ سے زائد مسلمانوں سے شہریت واپس لے لی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کےساتھ بدترین سلوک کے بعد اب انہیں بھارتی شہریت سے بھی محروم کیا جا رہا ہے، مودی سرکارنے ریاست آسام میں شہریت کی فہرست جاری کرتے ہوئے انیس لاکھ مسلمان بھارتی شہریوں کوشہریت سے محروم کردیا۔ گزشتہ سال اس  نوعیت کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی جس میں چالیس لاکھ افراد شہریت سے محروم ہورہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی شہریت سے محروم ہونے والےافرادسنہ 1970کی دہائی سےآسام میں مقیم ہیں۔یہ افراد بنگلہ دیش سے بھارت آئے تھے اورکئی نسلوں سےآبادہیں۔بھارتی حکومت کے متعصبانہ فیصلےکے خلاف ان افرادنےمختلف فورمزسے رجوع کیامگرکہیں شنوائی نہیں ہوئی۔

یاد رہے کہ آسام بنگلہ دیش سے ملحق بھارتی ریاست ہےجس کی مجموعی آبادی تین کروڑانتیس لاکھ ہے۔آبادی کا چونتیس فیصدسےزیادہ مسلمانوں پرمشتمل ہے۔ان میں تقریبا سترلاکھ بنگلہ دیشی نژادہیں۔مسلمانوں میں بیشترناخواندہ،غریب اورچھوٹےکسان ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھارتی ریاست آسام کی حکومت نے ان افراد کی فہرست جاری کی تھی جن کی بھارتی شہریت برقرار رکھی گئی تھی ، اس فہرست میں میں دو کروڑ 89 لاکھ افراد کو شہریت کا حق دیا گیا تھا جبکہ 40 لاکھ افراد کو شہریت سے محروم کردیا تھا۔ شہریت سے محروم ہونے والوں کو محض دو ماہ کا وقت دیا گیا تھا کہ وہ اس عرصے میں اپنی شہریت ثابت کریں۔

بعد ازاں اس فہرست میں مزید چھانٹی کی گئی اور حتمی طور ایک اور فہرست شائع کی ہے جس میں 19 لاکھ افراد کو حقِ شہریت سے محروم کردیا گیا ہے۔ حق شہریت سے محروم ہونے والے افراد مسلمان ہیں۔ بھارت کے اس معتصبانہ عمل کو دنیا بھر میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور اسے انسانی حقوق کی پابندی قرار دیا جارہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں