سری لنکا سے شروع ہونے والا جین زی کا طوفانی بگولہ دنیا میں گھومتا اور کئی ممالک میں حکومتوں کا دھڑن تختہ کرتا بھارت تک آ پہنچا ہے اور مودی حکومت کے سر پر بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں، اور ان کے لیے وزارت عظمیٰ کی لگاتار تیسری مدت مکمل کرنا بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
جین زی نسل جس کو دنیا ڈیجیٹل دور کی پیدائش گردانتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نے جین زی کے ساتھ ساتھ فروغ پایا ہے۔ اسی اور نوے کی دہائی میں جب اس عمر کے بچے ٹی وی ریموٹ درست طریقے سے نہیں سمجھے تھے، آج اس عمر کے نوجوانوں کا ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔
یہ نسل انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے سائے میں پروان چڑھی، جس کے سامنے دنیا گلوبل ولیج بن کر اس عمر میں آئی جب ان کی پیش رو نسلیں اس عمر میں شاید گلوبل ولیج کے مطلب سے بھی آشنا نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نسل دنیا کو ایک الگ زاویے سے دیکھتی ہے اور سماجی انصاف، ماحولیاتی تبدیلیوں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے میں کافی متحرک دیکھی جا رہی ہے۔
جین زی ابتدا میں صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اٹھنے والی ایک آواز تھی، جس نے ہر نوجوان کو متاثر کیا اور اسی آواز نے آہستہ آہستہ تحریک کی صورت اختیار کر کے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ تحریکیں جہاں گئیں ہوا کے تیز جھکڑوں کی طرح اپنی زد میں آنے والی ہر چیز کو خس و خاشاک کر گئیں۔ ان احتجاجی تحریکوں نے برسوں سے کئی ممالک پر بادشاہت کی طرز پر قائم حکومتوں کا خاتمہ کر کے وہاں کے حکمرانوں کو دم دبا کر بیرون ملک بھاگنے پر مجبور کیا۔ حکمرانوں کی شاہانہ مراعات کا خاتمہ کیا اور عوامی مفادات کی بالادستی قائم کی۔
یوں تو 21 ویں صدی کی دوسری دہائی میں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اسپرنگ عرب کے نام سے اٹھنے والی تحریکوں نے کئی ممالک میں حکمرانوں کا تخت و تاج تاراج کیا لیکن اصل جین زی کی جو پہلی کامیاب تحریک چلی، اس کا آغاز 2022 میں سری لنکا سے ہوا۔ پہلا احتجاج سری لنکا میں 2022 میں سامنے آیا جب پشکے خاندان کے طرز حکمرانی کے خلاف عوام میں دبے غصے کو اسی نئی نسل نے زبان دی اور پھر جین زی کی قیادت میں ملک بھر میں احتجاج پھیلا، جس کو مقامی زبان میں اراگالایا” یعنی جدوجہد دیا گیا۔ اس احتجاج میں پہلی بار حکمرانوں کے شاہی محلات سے حکمرانوں کو ملک سے بھاگتے اور ان محلات میں عوام کو ٹانگیں پسارے دیکھا گیا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں راجا پشکے خاندان کا کئی دہائی سے جاری راج کا خاتمہ ہوا۔
2022 میں سری لنکا سے شروع ہونے والا احتجاج 2026 میں بھارت تک آن پہنچا۔ چار سالوں میں یہ احتجاج سری لنکا سے بنگلہ دیش، نیپال، کینیا، انڈونیشیا، مڈغاسکر، پیرو، فلپائن، مراکش، انڈورا، مالدیپ، سربیا، میکسیکو اور مشرقی تیمور سے ہوتا ہوا اب دنیا کی سب سے بڑے ملک بھارت آن پہنچا ہے۔
اس دوران یہ طوفان جہاں سے گزرا وہاں اپنا نقش ثبت کرتا ہوا ہر چیز کو خس وخاشاک کرتا گیا۔ ان تمام تحاریک کی مشترکہ بات یہ رہی کہ ابتدا میں یہ نوجوانوں یا طلبہ کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں سوشل میڈیا پر زبان و بیان کا احتجاج کی صورت سامنے آیا، لیکن وقت کے حکمرانوں نے جب نوشتہ دیوار نہ پڑھا تو پھر یہ احتجاج سوشل میڈیا کے دائرے سے نکل کر سڑکوں پر آیا اور شاہی محلات، حکومتی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
پھر چاہے وہ راجا پشکے خاندان کے 40 سالہ راج کا خاتمہ ہو، بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے 16 سالہ مطلق العنان حکمرانی کا دھڑن تختہ یا پھر نیپال میں وزیراعظم کا استعفیٰ۔ کہیں کوئی صدر مواخذے کے بعد ہٹایا گیا تو کہیں عوام دشمن فیصلے کرنے والی کابینہ تبدیل ہوئی۔ جہاں حکومتیں تبدیل نہیں ہوئیں، وہاں جین زی نسل حکمرانوں سے ان کی شاہانہ مراعات ختم کرانے اور عوامی مفاد میں پالیسیاں مرتب کرانے میں کامیاب رہی اور ان ہی تحاریک کے نتیجے میں کئی ممالک میں نئی سیاسی قیادت بھی سامنے آئی۔
اب کاکروچ پارٹی کی صورت میں جین زی احتجاج بھارت میں درج بالا ممالک کی طرز پر شروع ہوا ہے، جہاں جین زی نے دہائیوں سے سیاست کرنے والی پارٹیوں بالخصوص حکمراں جماعتوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا آغاز رواں سال مئی 2026 میں مذاق مذاق میں ایک طنزیہ سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد اس وقت ہوا، جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے متنازع بیان دیتے ہوئے بھارتی بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہہ دی۔ اس طنزیہ بیان پر امریکا میں زیر تعلیم بھارتی طالب علم ابیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا میں مذاق میں لکھ دیا کہ ’’کیا ہوگا اگر ملک کے سارے کاکروچ ایک ساتھ جمع ہو جائیں‘‘ اور ان کا مذاق آج حقیقت بن کر بھارت کی سڑکوں پر متحد ہو چکا ہے۔
مذاق ہی مذاق میں بنائی جانے والی اس جماعت کو اصل عوامی تحریک بننے کا موقع تب ملا، جب یہ بھارت میں میڈیکل داخلے کے امتحانات (نیٹ) پرچے لیک ہونے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کا پلیٹ فارم بنی اور یوں ملک کے 20 لاکھ سے زائد میڈیکل اسٹوڈنٹس کو زبان ملی۔ بھارتی سماجی اور تعلیمی رہنما سونم وانگچنگ کی بھوک ہڑتال نے بھی اس تحریک کو تقویت بخشی۔
احتجاج کرنے والوں کا سادہ کا مطالبہ تھا کہ اس سارے واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں اور وزیرتعلیم دھرمیندر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوں۔ لیکن مودی سرکار نے بھی اس کو طلبہ کے ایک گروہ کا احتجاج جانا۔ جب بات نہ مانی گئی تو معاملہ سڑکوں پر آیا اور پھر سنگین سے سنگین تر ہوتا گیا یہاں تک کہ مظاہرین نے وزیراعظم مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔
یہ احتجاج مختلف شہروں سے بڑھتا ہوا بھارتی راج دھانی نئی دہلی تک آن پہنچا اور اس میں شدت اس وقت آئی جب انہوں نے بھارتی پارلیمان کی طرف مارچ کیا تو ان پر حکمرانوں کا آخری حربہ ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا۔ مظاہرین نے رخ کیا مودی کے گھر کا اور وہاں دھرنا دیا تو پولیس نے بے دردی سے لاٹھی چارج کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی سمیت کئی رہنماؤں اور طلبہ کو گرفتار بھی کر لیا۔
طلبہ کے اس احتجاج کو بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کا کاندھا اور بھارت میں اپنی آزاد ریاست کی تحریک چلانے والی سکھ فار جسٹس پارٹی کا سہارا مل چکا ہے جب کہ بھارت کی کئی نامور شخصیات بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت میں آگے آئی ہیں۔ احتجاج کی بڑھتی طاقت کو دیکھ کر ہی متکبر وزیراعظم مودی بھی پہلی بار طلبہ کے حق میں بات کرنے اور اس معاملے پر فاسٹ ٹریک عدالتوں کا بیان دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ نوجوان اب مودی کے زبانی بیانات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
مودی کو بھی جان لینا چاہیے کہ کاکروچ اس زمین کا سب سے سخت جان جانور ہے اور اب کاکروچ پارٹی بھی بھارتی وزیراعظم کے تمام حریفوں کے مقابلے میں ان کے لیے سب سے سخت جان ثابت ہو رہی ہے۔ اس حوالے آنے والی ویڈیوز بھی ان کے ارادے کی مضبوطی کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جب پولیس مظاہرین کو بھگانے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں تو وہ اسے سائیکل بنا لیتے ہیں۔ واٹر کینن کے استعمال پر رقص کرتے ہوئے نہانے کا مزا لیتے ہیں۔ رسی سے روکتے ہیں تو وار آف ٹگ کھیلنے لگتے ہیں جب کہ کئی مظاہرین پولیس کو یہ کہہ کر ان کا صبر آزما رہے ہیں کہ بھائی مزہ نہیں آ رہا، آنسو گیس کب چلاؤ گے۔
جب اتنے سخت جان حریف ملیں گے تو مودی جی کی تو نیندیں حرام نہیں ہوں گی تو کیا ہوں گی۔ لگتا ہے کہ اب مسلسل 13 سال سے حکومت کرنے والے مودی کو بھی یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ پاشکے اور حسینہ واجد کی طرح بھارت سے فرار ہو کر کس ملک میں پناہ لیں، کیونکہ کاکروچ پارٹی سے جان چھوٹنا آسان نہیں لگ رہا۔


