The news is by your side.

Advertisement

شہریت قانون میں ترمیم، مودی کو اپنی ہی عدالت سے شرمندگی کا سامنا

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت کے قانون میں چھیڑ چھاڑ کرنے پر مودی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

بھارت کی سپریم کورٹ میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے حکومت کی دائر درخواست کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے دائر ہونے والی60 درخواستوں پر سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے دائر درخواستوں کو ناقابلِ سماعت قرار دینے کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے مودی سرکاری سے قانون میں ترمیم سے متعلق تفصیلی جواب مانگ لیا۔ عدالت نے بھارتی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 جنوری تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔

دوسری جانب بھارت میں مسلم مخالف قانون کے خلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، مقامی حکومت نے دارالحکومت میں چار افراد کے ایک ساتھ بیٹھنے پر بھی پابندی عائد کردی۔

مزید پڑھیں: جامعہ ملیہ: بھارتی پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والا طالب علم بینائی سے محروم

یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ دنوں شہریت کے متنازع قانون کو لوک سبھا اور راجیو سبھا سے منظور کیا تھا جس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے اسے بھارت کے خلاف سازش قرار دیا جبکہ مختلف ریاستوں میں عوامی مظاہرے شروع ہوگئے۔

عوامی مظاہروں سے خوف زدہ بھارتی حکومت نے پولیس کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور حکم دیا ہے کہ جس علاقے میں بھی مظاہرہ ہو اُسے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں