The news is by your side.

Advertisement

بھارت کی عدالت نے کسان کی شکایت پر ٹرین قبضے میں لےلی

دہلی : بھارت کی عدالت نے محکمہ ریلوے کی جانب سے ایک کسان کو اس کی زمین کے بدلے رقم ادا نہ کرنے پر ایک مسافر ٹرین کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس وقت ٹرین پر سو سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ ریلوے حکام کی یقین دہانی پر مذکورہ ٹرین کو چھوڑدیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی ایک عدالت میں ایک متاثرہ کسان نے درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا کہ محکمہ ریلوے نے سال 2006 میں مجھ سے زمین حاصل کی تھی تاہم ابھی تک اس زمین کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔

شیو کمار نامی کسان نے بتایا کہ 36 لاکھ روپے کےعوض اپنی ایک ایکٹر زمین ریلوے کو فروخت کی تھی۔ کسان نے عدالت سے استدعا کی کہ محکمہ ریلوے کو معاوضے کی ادائیگی کا پابند کیا جائے، جس پر عدالت نے ایکشن لیتے ہوئے محکمہ ریلوے کی ٹرین کو قبضے میں لینے کے احکامات صادر کیے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کرناٹکا کی ریاست میں واقع ہاری ہار اسٹیشن پر موجود جب اس ٹرین کو قبضے میں لیا تو اس وقت ٹرین پر سو سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ تاہم ریلوے حکام کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ وہ کسان کو اس کی زمین کا معاوضہ جلد ادا کر دیں گے عدالتی حکام نے ٹرین کو چھوڑ دیا۔

یاد رہے کہ سال 2013 میں عدالت نے ریلوے حکام کو حکم دیا تھا کہ شیو کمار کو سود سمیت زمین کا معاوضہ ادا کیا جائے لیکن ریلوے کی جانب سے تین سال تک اس حکم پر عمل درآمد میں ناکامی کے بعد عدالت نے ٹرین کو ضبط کرنے کا حکم دیا۔

کسان کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ریلوے حکام نے وعدہ کیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر رقم ادا کر دی جائے گی جس کے بعد ٹرین کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ٹرین پر سفر کرنے والے ایک مسافر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’پہلے ہم سمجھے کہ شاید دنگا فساد کرنے والوں نے ٹرین روک لی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ٹرین کو عدالتی حکم کے تحت ضبط کیا گیا ہے۔ مجھے غصہ تو آیا لیکن اس پر ہنسی بھی آرہی تھی۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں