جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

بھارت امریکا تجارتی معاہدے سے خود بھارتی شہری پریشان، خوف و ہراس کا شکار

اشتہار

حیرت انگیز

حال ہی میں بھارت اور امریکا کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کے بعد اس کے شہری ہی پریشانی اور خوف و ہراس کا شکار ہوگئے ہیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی ہمالیائی ریاستوں کے کاشت کاروں میں امریکا سے معاہدے کے بعد بے چینی بڑھ رہی ہے، انھیں خدشہ ہے کہ بھارت امریکا عبوری تجارتی فریم ورک کے حصے کے طور پر امریکہ سے پھلوں کی درآمدات انہیں مالی طور پر تباہ کر دے گی اور ان کی روزی متاثر ہوگی۔

دو درجن سے زیادہ کسان تنظیموں کے گروپ، سنیوکت کسان منچ کے کنوینر ہریش چوہان نے بتایا کہ یہ ملک کی سیب کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔

پریشانی کا شکار کسان رہنما یورپی یونین کے بعد نیوزی لینڈ کے ساتھ بھارت کے تجارتی معاہدے کا حوالہ دیتے نظرآئے جسے "تمام سودوں کی ماں” کہا جا رہا ہے، جو درآمدی محصولات کم ہونے کے بعد کسانوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

آزاد تجارتی معاہدوں کے تحت بھارت نے نیوزی لینڈ اور یورپی یونین سے سیب اور دیگر پھلوں پر درآمدی ڈیوٹی کو 50 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد تک کم کردیا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں ہریش چوہان نے کہا کہ سیب سب سے زیادہ فروخت ہونے والا پھل ہے، اور حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ درآمدی محصولات کو 25 فیصد تک کم کر دیا جائے گا۔

ہم امریکا یا نیوزی لینڈ کے کسانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، کم از کم درآمدی قیت 80 (ایم آئی پی) روپے فی کلوگرام ہے، بنیادی ریٹ ایم آئی پی ہو گا اس لیے یہ سیب کی معیشت کو تباہ کر دے گا۔

انھوں نے بتایا کہ امریکا سمیت ان تین تجارتی معاہدوں کے تحت بھارتی بازاروں میں درآمد شدہ سیب 15-20 روپے فی کلو سستا ہو جائے گا جس ہمارے لیے کافی پریشانی کا باعث بنے گا۔

کسان رہنما نے بتایا کہ امریکا سے آنے والے سیب کے ایک باکس (20 کلو) پر ابھی جو ڈیوٹی لگتی ہے، اس کی قیمت بھارتی منڈیوں میں 2500-2700 روپے کے درمیان ہے۔

تاہم لینڈنگ اور درآمدی لاگت کو ہٹانے کے بعد یہ آدھی قیمت پر فروخت ہو جائے گا، اس سے ہمارے پریمیم سیب کو نقصان پہنچے گا کیونکہ ان کی قیمتیں کافی کم ہو جائیں گی، مقامی مارکیٹ میں ہمارے سیب سستے ہو جائیں گے۔

بھارت امریکا تجارتی معاہدہ : کانگریس خاتون رہنما کی مودی پر کڑی تنقید، ویڈیو وائرل

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں