راولاکوٹ: بھارتی فوج نے غلطی سے ایل او سی کراس کرنے والے نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا، بٹل کا رہائشی نوجوان محمد عامر مال مویشی چرا رہا تھا۔
تفصیلات کے مطابق لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج نے ایک بار پھر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کرنے والے غیر مسلح پاکستانی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔
بھارتی حکام نے نوجوان کو مبینہ درانداز قرار دے کر اس کی میت بھی واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
شہید نوجوان کی شناخت محمد عامر کے نام سے ہوئی ہے، جو راولاکوٹ کے علاقے بٹل کا رہائشی تھا۔ ورثاء کا کہنا تھا کہ عامر گزشتہ روز صبح معمول کے مطابق اپنی بھینسوں کو چرانے کے لیے گھر سے نکلا تھا، جس کے بعد وہ واپس نہ لوٹا۔
مال مویشی چراتے ہوئے عامر نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول عبور کر گیا، جہاں وہاں تعینات بھارتی اہلکاروں نے اسے نشانہ بنایا۔
اہلخانہ کا کہنا تھا کہ وہ عامر کی تلاش میں تھے کہ انہیں بھارتی میڈیا کے ذریعے یہ اطلاع ملی کہ بھارتی فوج نے ایک "درانداز” کو ہلاک کر دیا ہے۔
ورثاء نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عامر ایک عام شہری اور محنتی نوجوان تھا جس کا کسی بھی دہشت گردی یا دراندازی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
بھارتی فوج نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے تاحال نوجوان کی میت ورثاء کے حوالے نہیں کی، شہید کے خاندان نے عالمی اداروں اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی فوج کی اس بربریت کا نوٹس لیا جائے اور ان کے پیارے کی میت کی باوقار واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


