بھارتی کرکٹ بورڈ نے مستفیض الرحمان کے معاملے میں اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری، بنگلہ دیشی پیسر کو ہٹانے سے پہلے کسی سے مشورہ نہیں کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کے کہنے پر بنگلہ دیشی پیسر مستفیض الرحمان کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز سے ریلیز کیے جانے کے بعد بنگلہ دیش اور بھارتی بورڈ کے درمیان نہ صرف چپقلش بڑھ گئی ہے بلکہ دنوں ملکوں کی حکومتوں کے دمیان بھی معاملات مزید کشیدہ ہوچکے ہیں۔
بھارتی بورڈ کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بورڈ آف کرکٹ کنٹرول ان انڈیا نے خود بورڈ کے اعلیٰ عہدیداران اور آئی پی ایل گورننگ کونسل سے مشورہ کیے بغیر کے کے آر کو ہدایت کی کہ مستفیض کو ریلیز کردیا جائے۔
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جب مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ سے ہٹانے کا معاملہ بی سی سی آئی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں زیرغور آیا تو اس وقت میٹنگ میں کئی اعلیٰ عہدیدار موجود ہی نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی پی ایل سے اخراج پر مستفیض الرحمان کا ردعمل آ گیا
اہم عہدیداران اور گورننگ کونسل ممبران کی غیرموجودگی میں اتنا بڑا فیصلہ صرف چند لوگوں کی طرف سے سامنے آیا اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو جلدی میں مستفیض کو ہٹانے کی ہدایت کردی گئی۔
بنگلہ دیشی پیسر کو پچھلے ماں منعقد ہونے والی آئی پی ایل بڈنگ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 9.2 کروڑ روپے کی خطیر رقم میں خریدا تھا۔
تاہم انھیں خریدنے کے بعد نہ صرف بھارت میں فرنچائز کے مالک شاہ رخ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بھارتی بورڈ نے بنگلہ دیش کے ساتھ موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اوچھے طریقے سے مستفیض کو آئی پی ایل سے باہر کروادیا۔
مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالنا احمقانہ فیصلہ ہے، ششی تھرور


