The news is by your side.

Advertisement

کرونا سے متاثرہ بھارتی بچے نئے اور خطرناک مرض میں مبتلا

 رواں ماہ بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں چار بچوں کو سانس لینے میں تکلیف اور بلڈ پریشر کم ہونے کی علامات کے ساتھ ایک ہسپتال لایا گیا۔ ان کی ماں کو ایک مہینہ پہلے کووِڈ-19 ہوا تھا۔ بچوں میں اس مرض کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

شیواگرام کے کستوربا ہسپتال میں ان نو عمر بچوں میں البتہ اینٹی باڈیز کا ضرور پتہ چلایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں ماضی میں کووِڈ ہو چکا ہے۔

اب وہ ایک نایاب اور ممکنہ طور پر زندگی کے لیے خطرناک multi-system inflammatory syndrome یا مختصراً MIS-C نامی ایک مرض سے لڑ رہے ہیں۔ یہ حالت عموماً کووِڈ-19 سے صحت یابی کے بعد چار سے چھ ہفتوں میں بچوں اور نو عمر افراد میں ہوتی ہے۔

کستوربا ہسپتال میں ان میں سے دو بچوں کی صحت تو بحال ہو چکی ہیں لیکن باقی دو اب بھی انتہائی نگہداشت میں ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہمیں اندازہ نہیں کہ یہ مسئلہ کتنا شدید ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ بھارت میں اس مرض کے حوالے سے اعداد و شمار بھی موجود نہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب ملک میں کرونا وائرس کی دوسری خطرناک لہر کمزور پڑ رہی ہے، بھارت بھر میں بچوں کے امراض کے معالج اس نایاب لیکن سنگین مرض کا سامنا کرنے والے کئی بچوں کی اطلاع دے رہے ہیں۔ فی الحال اندازہ نہیں کہ بھارت میں اب تک کتنے بچے اس سے متاثر ہو چکے ہیں لیکن امریکا میں ایسے 4,000 سے زیادہ کیس سامنے آئے اور اب تک 36 کی اموات ہو چکی ہیں۔

دلّی کے گنگا رام ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بچوں کے معالج ڈاکٹر دھیرن گپتا مارچ سے اب تک 4 سے 15 سال کے ایسے 75 سے زیادہ مریض دیکھ چکے ہیں۔ ان کے ہسپتال نے 18 بستروں پر مشتمل ایم آئی ایس – سی  وارڈ تشکیل دیا ہے۔ ان کے خیال میں دارالحکومت اور اس کے مضافات میں ایسے 500 سے زیادہ مریض ہیں۔

تقریباً 1,500 کلومیٹرز دور مغربی شہر پونے میں میں سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والی ماہرِ امراضِ اطفال ڈاکٹر آرتی کنیکر نے اپریل سے اب تک ایسے 30 کیس دیکھے ہیں۔ بیمار بچوں میں سے 13، جن کی عمریں 4 سے 12 سال تھیں، اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر myocarditis سے دوچار ہیں، جو ایسا مرض ہے جس میں دل کے پٹھے میں ورم آ جاتا ہے۔ ڈاکٹر آرتی کے مطابق کرونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد اس کے مریضوں کی تعداد کافی بڑھی ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پٹھوں میں ورم آنے عارضہ دراصل وائرس کے خلاف جسم میں مدافعت کے نظام کے شدید ترین رد عمل کی وجہ سے ہوتا ہے، جس سے اہم ترین اعضا میں ورم پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کی علامات ابتداء میں دوسری بیماریوں جیسی ہوتی ہیں، مثلاً تیز یا مستقل بخار، جسم پر لال دانے، پیٹ میں درد، بلڈ پریشر کا کم ہونا، جسم میں درد اور غنودگی طاری ہونا ہیں۔ چند علامات ‘کاواساکی مرض’ جیسی ہیں جو خود ایک نایاب مرض ہے جو پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔

دلّی کے آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز  میں پیڈیاٹرکس یعنی بچوں کے امراض کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر جھوما سنکر کے مطابق یہ مرض واقعی درمیانی شدت کے کاواساکی سے لےکر متعدد اعضا کے کام کرنا چھوڑ دینے جیسی مختلف علامات کا مرکب ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ورم بڑھنے سے خطرناک نتائچ نکل سکتے ہیں، مثلاً نظامِ تنفس یعنی سانس لینے کے نظام کا خراب ہو جانا اور دل، گردوں اور جگر جیسے متعدد اعضا کا متاثر ہونا۔ اس مرض کے حامل بچوں میں عصبیاتی مسائل بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں