ہفتہ, جولائی 11, 2026
اشتہار

بھارتی شہریت: مسلمان نئے قوانین اور حکومتی پالیسیوں کا نشانہ ہیں

اشتہار

حیرت انگیز

بھارت میں مسلمانوں سے مودی سرکار معاندانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے اور حکومتی سطح پر مسلمان مخالف پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔

پالیسی سازی اور نئے قوانین متعارف کرواتے ہوئے ایک جال اس طرح بُنا گیا کہ پہلے مسلمانوں کو تعلیم کیا جائے اور پھر ان پر سرکاری نوکری کے دروازے بھی بند ہوجائیں۔ اور یہ ہُوا بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے مختلف شہروں میں بسنے والے بڑے چھوٹے تاجروں اور کاروبار سے وابستہ مسلمانوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا گیا جس میں ہندتوا کے دہشت گردوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ مسلمانوں کو دکان کا نام تبدیل کرنے پر مجبور کرنے اور خرید و فروخت کی اشیاء کے متعلق غیرقانونی اور ناجائز طریقے سے سخت ہدایات دینے کے بعد اس پر عمل نہ کرنے والے دکان داروں سے مار پیٹ اور دکانیں بند کروانے کا تماشا وائرل ویڈیوز میں دنیا دیکھ رہی ہے۔ اس معاشی قتل کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو گھر خریدنے اور کرائے پر لینے میں‌ بھی ہندتوا کے غنڈوں کی وجہ سے شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ مسلمانوں کو چڑانے کے لیے ہندو انتہا پسندوں نے گھروں میں سؤر پالنا شروع کردیے ہیں۔ اس نفرت اور تعصب کی فضا کو بھارتی جنتا پارٹی پروان چڑھا رہی ہے۔

بھارتی جنتا پارٹی نے مسلمانوں کے خلاف بلڈورز پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس میں کوئی بھی الزام عائد کر کے مساجد، درگاہوں، دینی مدارس اور بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے۔ ہندوتوا کے پیروکاروں کی خواہش ہے کہ وہ مسلمانوں‌ کو زندہ درگور کر دیں اور اسی لیے اب مسلمانوں سے ان کے شہریت اور شہری حقوق بھی چھیننے کے لیے قانون سازی اور ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے بھارتی مسلمانوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

ایسا ہی ایک معاملہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی وزارتِ‌ خارجہ نے بیان جاری کیا کہ بھارتی پاسپورٹ ایک سفری دستاویز ہے اور پاسپورٹ کی بنیاد پر اس کے حامل فرد کی شہریت ثابت نہیں ہوتی۔ اس بیان نے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ کو سفری دستاویز کے علاوہ شہریت کی دستاویز نہ تسلیم کیے جانے سے مسلمانوں کو کیا نقصان ہوگا؟ اس پر بات کرنے سے قبل جائزہ لیتے ہیں کہ بھارت میں شناخت کے لیے کس قسم کے دستاویزات جاری ہوتے ہیں اور کیوں کوئی بھی ایک دستاویز شہریت کی بنیادی دستاویز کے طور پر نہیں دیکھی جاتی۔

پاکستان سمیت دنیا بھر کوئی ایک دستاویز ایسی ہوتی ہے جس کو اس ملک کی شہریت کے لیے مرکزی اور بنیادی دستاویز اور ثبوت مانا جاتا ہے۔ جرمنی، کینیڈا اور آسٹریلیا میں شہریت کا ایک سرٹیفکیٹ جاری ہوتا ہے۔ جب کہ امریکا میں شہریت کا سرٹیفکیٹ اور نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔ برطانیہ میں شہریت کی رجسٹریشن دی جاتی ہے۔

تقسیم برصغیر کے بعد پاکستان اور بھارت دو الگ الگ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے اور پاکستان نے 1973ء کے آئین میں یہ بات طے کرلی تھی کہ شہریت کی بنیادی دستاویز قومی شناختی کارڈ ہو گا۔ موجودہ صدی کے آغاز پر یہ قومی شناختی کارڈ کمپیوٹرائز کردیا گیا اور اب پورے ملک میں کسی بھی شہری کی بنیادی شناخت یہی کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ہے۔ آپ کو پاپسورٹ بنوانا ہو، بینک اکاؤنٹ کھلوانا ہو، سرمایہ کاری کرنی ہو، زمین کی خریداری، گاڑی رجسٹریشن، سرکاری ملازمت یا پیدائش اور موت کے لیے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ہوں اور حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھانا ہو ہر جگہ شناختی کارڈ دکھانا اور اس کی نقل جمع کروانا لازمی ہے۔ اسی طرح سمندر پار پاکستانیوں کے نائیکوپ کارڈ ان کی پاکستانی شہریت کی ایک بنیادی دستاویز ہے۔ بھارت میں عوام کو مخلتف طرح کی شناختی دستاویزات جاری کی جاتی ہیں۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

الف: آدھار کارڈ
یہ کارڈ بھارت کی مرکزی حکومت کا ادارہ یونیک آئیڈینٹیفیکیشن اتھارٹی آف انڈیا جاری کرتا ہے۔ جس میں ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد شناختی نمبر اور فرد کی بائیو میٹرک شناخت شامل ہوتی ہے۔ مگر یہ کارڈ رکھنا بھی بھارتی شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔

ب: ووٹر آئی ڈی یا الیکٹر فوٹو آئیڈنٹیٹی کارڈ (EPIC)
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) یہ کارڈ جاری کرتا ہے۔ یہ ایک تصویری شناختی کارڈ ہے۔ یہ کارڈ بلدیاتی، ریاستی اور قومی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس کارڈ کی بنیاد پر آپ ووٹ ڈال کر اپنے نمائندے کو تو منتخب کرسکتے ہیں۔ مگر یہ کارڈ بھی شہریت کی دستاویز نہیں ہے۔

ج: پیدائشی سرٹیفکیٹ (Birth Certificate)
بھارت میں پیدائش کے سرٹیفکیٹ بلدیاتی ادارے جاری کرتے ہیں۔ اور یہ ریاستی سطح کی شناختی دستاویز ہے۔ اس کا مقصد فرد کی عمر، تاریخِ پیدائش اور ولدیت کے ثبوت کا بنیادی شہری ریکارڈ رکھنا ہے۔ مگر یہ بھی بھارتی شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔

د: پین کارڈ (Permanent Account Number – PAN Card)
انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ آف انڈیا ٹیکس دہندگان کو یہ کارڈ جاری کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد مالیاتی لین دین کی نگرانی، انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے، اور بینک یا سرمایہ کاری کے لیے اکاؤنٹس کھولنے لیے استعمال ہے۔ بے شک آپ اس کارڈ کے حامل ہوں اور ٹیکس ادا کرتے ہوں مگر شہریت کی بات کی جائے تو یہ بھی بنیادی دستاویز نہیں ہے۔

ذ: بھارتی پاسپورٹ (Indian Passport)
بھارتی وزارتِ خارجہ یا وزارت بیرونی امور اس کا اجرا کرتی ہے۔ بیرونِ ملک سفر کے لیے یہ ایک بنیادی دستاویز ہے۔ مگر وزارتِ خارجہ نے اسے بھی محض ایک سفری دستاویز کہتے ہوئے بھارتی شہریت کے حتمی ثبوت کے لیے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ ڈرائیونگ لائسنس، راشن کارڈ، منریگا جاب کارڈ، سرکاری اور ادارہ جاتی شناختی کارڈ اور ڈیجیٹل شناخت کا ڈٰیجی لاکر اور ایم آدھار کارڈ کو بھی شہریت کے ثبوت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں‌ کوئی بنیادی، اور قابلِ قبول دستاویز نہ ہونے کے باوجود بھارت میں شہریت کے حوالے سے متعدد مرتبہ قانون سازی کی گئی ہے۔

بھارتی شہریت کے حوالے سے پہلی قانون سازی 1955 میں کی گئی جس میں 1950 سے 1987 تک بھارت میں پیدا ہونے والوں کو بھارتی شہری مانا گیا۔ کوئی بھی فرد جو بھارت میں اپنی پیدائش کا ثبوت فراہم کر دے اس کو بھارتی شہری تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد یکم جولائی 1987 سے نیا قانوں نافذ ہوا جو کہ سال 2003 تک نافذل العمل رہا۔ اس دوران بھارت میں پیدا ہونے والے ایسے بچے جن کے ماں یا باپ میں سے کوئی ایک بھی بھارتی شہری ہو تو اس کو بھارتی شہری تسلیم کیا جائے گا۔

تیسری مرتبہ قانون سازی سال 2003 میں کی گئی جس میں بھارتی شہری ہونے کے لیے بھارت میں پیدا ہونے والے بچے کے ماں اور باپ دونوں کا بھارتی شہری ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک بھی غیر ملکی ہو تو اس صورت میں پیدا ہونے والے بچے کو بھارتی شہری تصور نہیں کیا جائے گا۔ مگر اس قانون میں غیر ملکیوں کو بھارتی شہریت دینے اور بھارت میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

مسلمانوں کو ہدف بنا کر قانون سازی کی جارہی ہے
اس خطّے کے ایک بڑے اور معاشی طور پر ترقی کرتے ہوئے ملک کا دعویٰ‌ کرنے والے بھارت میں شہریت کے حوالے سے قانون سازی میں شہریت کی بنیادی دستاویزکا ذکر کہیں‌ موجود نہیں جو ایک بڑا سوال ہے۔ مگر بھارتی جنتا پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد شہریت کے حوالے سے مذہبی بنیادوں پر قانون سازی شروع کی اور سال 2019 میں شہریت کا ترمیمی قانون سی اے اے اور قومی رجسٹر برائے شہریت این آر سی کا قانون پاس کیا جس میں مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ قانون میں یہ شق شامل کی گئی کہ کوئی بھی مسلمان جس کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش یا افغانستان سے ہوگا اس کو بھارتی شہریت نہیں دی جائے گی جب کہ انہی ملکوں سے آنے والے ہندو، سکھ، بدھ اور عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو کسی مذہبی تنازع، تفریق کی بنیاد پر بھارتی شہریت دینے کی منظوری دی گئی ہے۔ جو شخص پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے سال 2014 تک بھارت گیا ہو اور وہ مسلمان نہ ہو تو اس کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔

اوپر بیان کی گئی تفصیل کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پاسپورٹ کو شہریت کی بنیادی دستاویز تسلیم نہ کرنے کا واضح مقصد مسلمانوں کو ہدف بنانا ہے۔ اگر بھارتی آبادی کا جائزہ لیا جائے تو عمرہ اور حج کی زیارت کی وجہ سے مسلمان سب سے زیادہ پاسپورٹ بنواتے ہیں۔ اور مسلمانوں کے پاس ان کے اجداد کے پاسپورٹ بھی موجود ہیں جس کی بنیاد پر انہیں شہریت اور شہری حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا تھا۔ مگر شہریت کے اس قانون کے بعد مسلمانوں کے پاس موجود والدین اور بزرگوں کے پاسپورٹ کا پرانا ریکارڈ اور اس دستاویز کی اہمیت بھی گھٹ گئی ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں اور حالیہ اقدامات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت مسلمانوں کی اکثریت شہریت کے بنیاد حق سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

اہم ترین

راجہ کامران
راجہ کامران
راجہ کامران سینئر صحافی ہیں۔ کونسل آف اکنامک اینڈ انرجی جرنلسٹس (CEEJ) کے صدر ہیں۔ ان کا ٹوئٹر ہینڈل rajajournalist@ ہے۔

مزید خبریں