site
stats
اہم ترین

بھارتی ڈاکٹر عظمیٰ کا بیان جھوٹ نکلا، نکاح کی ویڈیو اور حلف نامہ سامنے آگیا

اسلام آباد : بھارتی ڈاکٹر عظمیٰ کے جھوٹ کا پول کھل گیا، عظمیٰ کو طاہر کی شادی اور چار بچوں کا پہلے سے علم تھا، عظمیٰ کی ولدیت بھی مختلف نکلی، نکاح کی ویڈیو اور حلف نامہ سامنے آگیا، طاہرکا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن آنے تک عظمیٰ ناراض نہیں تھی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی نوجوان سے محبت کی شادی کرنے کے بعد دھوکا دہی کا الزام لگانے والی بھارتی ڈاکٹرعظمیٰ دو دن بھارتی ہائی کمیشن میں رہنے کے بعد آج اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہوئی، ڈاکٹرعظمیٰ نےعدالت کو تحریری درخواست میں بتایا کہ طاہر سے ملائیشیا میں دوستی ہوئی، بھارت واپسی کے بعد بھی رابطہ رہا۔

درخواست میں کہا گیا کہ طاہر نے پاکستان آنے کے لیے اسپانسر لیٹر بھجوایا، واہگہ پر طاہر نےاستقبال کیا، گاڑی میں بٹھا کر کہا کہ وہ بہت دورپہاڑی گاؤں میں رہتا ہے، ایک دوا کھانے کو دی جس سے میں بےہوش ہوگئی، ہوش آیا تواجنبی گاؤں میں اجنبی لوگوں کے درمیان تھی۔

 

عظمیٰ نے مزید بتایا کہ طاہرکے گھر والوں کو ہندی بھی نہیں آتی تھی، میں حیران تھی کہ کیا ہورہا ہے۔ طاہر نےاسی رات مجھے زیادتی کانشانہ بنایا، مارا پیٹا اور دھمکی دی کہ اگلے روز نکاح نامے پردستخط نہ کیے تو جان سے مار دے گا، اگلے روز ایک گندے گھرمیں لے جایا گیا، گن پوائنٹ پر نکاح نامے پردسختط کرائے۔

عظمیٰ نے بیان دیا کہ شادی ہوتے ہی ان لوگوں نے مجھےمارنا پیٹنا شروع کردیا، صبح سے شام تک گھر کے کام کرائے جاتے تھے، طاہر روزانہ تشدد اور زیادتی کا نشانہ بناتا یہ لوگ مختلف زبان بولتے جو مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔

مجھےایک رات اس وقت علم ہوا کہ طاہر شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے جب میں نے بچوں کو اسے ابو ابو کہتے سنا،اب یہ لوگ مجھےمل کر ہراساں کرتے اور مارتے پیٹتے تھے۔

ڈاکٹرعظمیٰ نےعدالت سے درخواست کی ہے کہ بھارت واپسی تک سیکیورٹی دی جائے۔ ڈاکٹر عظمیٰ کی درخواست پر عدالت نے مبینہ شوہر طاہر، نکاح خواں اور گواہان کو 11 مئی جمعرات کو عدالت میں طلب کرلیا۔

بھارتی خاتون کی عدالت میں غلط بیانی ثابت ہوگئی

ڈاکٹر عظمیٰ نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ طاہر کے شادی شدہ ہونے سے لاعلم تھی، بھارتی خاتون کی عدالت میں غلط بیانی ثابت ہوگئی۔

اے آر وائی نیوز نے عظمیٰ اور طاہر کی واٹس ایپ چیٹ کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں۔ واٹس ایپ میسج میں عظمیٰ نے طاہر کو کہا تھا کہ وہ اس کے بھائی سے بات کرے تویہ نہ بتائے کہ وہ شادی شدہ اور چاربچوں کاباپ ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی شہری نے گن پوائنٹ پر نکاح کیا: بھارتی خاتون کا الزام

عظمیٰ نے طاہر کو تاکید کی تھی اپنی تعلیم گریجویشن بتائے۔ عظمیٰ نے عدالت کو بیان میں کہا ہے کہ طاہر ملائیشیا میں اس سے انگلش میں بات کرتا تھ، لیکن واٹس ایپ چیٹ میں گفتگو رومن میں کی گئی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عظمٰی نے طاہر کی اپنے بھائی سے بات کیوں کرائی،جب طاہر گریجویٹ نہیں تو تعلیم گریجویشن بتانے کا کیوں کہا ؟تعلیمی قابلیت صرف دوستی کیلیے تو پوچھی نہیں جاتی؟

خاتون کا نکاح ان کی خوشی سے ہوا، قاضی کا بیان

اسی ضمن میں عظمیٰ اور طاہر کا نکاح پڑھانے والا نکاح خواں ہمایوں منظر عام پر آگیا۔ نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے ہمایوں نے کہا کہ میں نے ان دونوں کا نکاح پڑھایا۔

خاتون سے دریافت کیا کہ کیا آپ کا کسی اور سے نکاح تو نہیں ہے؟ کیوں کہ نکاح پر نکاح زنا اور گناہ ہے۔ نکاح خواں کے مطابق نکاح کے دوران خاتون سے پوچھا کہ وہ خوش ہیں تو انہوں نے ہامی بھری اور حق مہر میں شوہر سے حج کرانے کی شرط رکھی۔

عظمی کا بیان حلفی بھی سامنے آگیا

نکاح کے وقت ان کا جمع کرایا گیا بیان حلفی بھی سامنے آگیا ہے جس میں انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ عاقل اور بالغ شہری ہیں اور اپنی مرضی سے بغیر کسی کے دباؤ کے یہ نکاح کررہی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top