The news is by your side.

بھارتی ڈاکٹرز کی بابا رام دیو کے خلاف قانونی چارہ جوئی

نئی دہلی: بھارت کے ڈاکٹرز نے کرونا علاج اور ایلوپیتھی کا مذاق اڑانے پر متنازع شخصیت یوگا گرو بابا رام دیو  کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کردی۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق متنازع شخصیت بابا رام دیو نے ملک میں کرونا پھیلنے اور ہلاکتوں کا ذمہ دار ڈاکٹرز کو قرار دیا جبکہ آکسیجن کے ذریعے سانس لینے کی کوشش پر بھی بے بنیاد تبصرہ کیا۔

ایلوپیتھی ادویات ، علاج اور ڈاکٹرز کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنانے پر ڈاکٹرز نے بابا رام دیو کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا اور ملک بھر کے ڈاکٹرز کو ایک اتحاد بنانے کا مشورہ دیا۔

بابا رام دیو کے خلاف آئی ایم اے بھی میدان میں آئی اور انہوں نے بابا رام کو قانونی نوٹس بھیجا۔ قانونی چارہ جوئی کے باوجود بابا رام نے اپنے بیانات کا سلسلہ ترک نہیں کیا اور مزید ویڈیو پیغام جاری کردیا۔

ملک بھر میں مختلف کاروباروں سے منسلک عہدیداروں سے بات چیت کر تے ہوئے بابا رام نے کہا کہ ؔکسی کے باپ میں دم نہیں ہے جو رام دیو کو گرفتار کر سکے۔

مزید پڑھیں: 6 کلوگرام سونے کے زیور پہننے والا بھارتی گولڈن بابا توجہ کا مرکز

واضح رہے کہ بابا کے بیانات کے بعد ملک میں ایلوپیتھی اور آیوروید پر جنگ چھڑ گئی ہے۔ آئی ایم اے نے بابا رام دیو کو پہلے ہی ایک ہزار کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔ جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل میں مباحثے کے دوران انہیں ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے‘۔

ڈاکٹرز کے احتجاج اور قانونی چارہ جوئی پر بھارت کے وزیر صحت نے نوٹس لیا تو بابا رام دیو نے اپنے بیان سے معذرت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا اعلان کیا۔

دو روز قبل ایک بار پھر بابا رام دیو نے ایلوپیتھی سے کرونا علاج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نظام کے ذریعے کسی بھی بیماری کا علاج نہیں، ڈاکٹر مریض کو بے وقوف بنانے اور پیسہ خرچ کرنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

بابا رام دیو کی طرح کے کئی ناخواندہ  لوگوں کی وجہ سے  جڑی بوٹیاں فروخت کرنے والوں کے کاروبار میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ شہریوں کا نظام صحت پر سے اعتبار اٹھ رہا ہے، جسے تشویشناک قرار دیا جارہا ہے۔

حکومت میں آیُروید، نیچروپیتھی، یونانی، سدھا اور ہومیوپیتھی کی ایک ‘آیوش’ نامی وزارت بھی ہے جس کا مقصد روایتی طب کو فروغ دینا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسو سی سیشن (آئی ایم اے) نے ایک عالمی وبا کے دوران دیے جانے والے ان بیانات کو ‘بےحسی’ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

ڈاکٹروں نے کہا کہ ایک ایسے گورو کی طرف سے جنہیں لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں، اس طرح کا بیان ‘غیر ذمہ دارانہ اور حوصلہ شکن’ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں