The news is by your side.

Advertisement

کرونا علاج کے نام پر اسپتال نے 40 لاکھ بٹور لیے، فیملی کے 3 افراد چل بسے

نئی دہلی: بھارت میں کرونا وائرس کے علاج  کے نام پر 40 لاکھ روپے بٹور لیے گئے ایک ہی خاندان کے تین افراد چل بسے, ، بیٹے نے والد کی موت کا ذمہ دار اسپتال انتظامیہ کو تھہرادیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ کے پرائیویٹ اسپتال میں کرونا علاج پر چالیس لاکھ سے زائد رقم بھی مریضوں کی زندگیوں کو نہ بچاسکی، ایک ہی گھر کے تین افراد کرونا کے باعث چل بسے۔

رپورٹ کے مطابق وبا کے باعث گھر کے سربراہ ستیانارائن ریڈی دکن اسپتال میں زیر علاج تھے تاہم وہ وبا کے ہاتھوں زندگی ہار بیٹھے۔

علاوہ ازیں اسپتال کی جانب ان کے علاج پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے کا بل تھما دیا گیا اور ستیانارائن کے بھانجے سمیت دیگر دو افراد کے علاج کی رقم ملا کر چالیس لاکھ روپے بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اپنے پیاروں کی ہلاکت پر شدت غم سے نڈھال اہلخانہ نے اسپتال کی جانب سے 8 لاکھ 50 ہزار روپے کی رسید فیملی کو تھما دی گئی، بل کی رقم کو لے کر اسپتال میں موجود اہلخانہ اور تیمارداروں کی جانب سے اسپتال انتظامیہ سے جھگڑا ہوا جس کے بعد انہوں نے دو لاکھ ادا کیے اور اپنے پیاروں کی لاشوں کو لے کر روانہ ہوگئے۔

کارپوریٹ اسپتال میں کنبے کے دکھوں کا انکشاف کرتے ہوئے ریڈی کے بیٹے انریڈی رادھیش نے بتایا کہ ’اپنے والد کی زندگی کے آخری گھنٹوں میں خوفناک تکالیف اور اسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت بھی سامنے آئی۔

رادھیش کے مطابق کوئی نہیں جانتا تھا کہ پچھلے چار ہفتوں میں مجھے اور میرے اہلخانہ کو کس طرح کی تکلیف اٹھانی پڑی، میرے والد اسپتال میں ڈائپر کی مدد اور تبدیلی کی التجا کرتے ہوئے انتقال کرگئے لیکن کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آیا، ہم نے تین ممبروں کے علاج پر چالیس لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد بھی اپنے پیاروں کو نہ بچاسکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں