The news is by your side.

Advertisement

آرٹیکل 370 کا خاتمہ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری، 1 شہید، 500 سے زائد کشمیری گرفتار

مظفرآباد: مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد بھارتی حکومت کی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک حریت رہنماؤں سمیت 500 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر میں 370 آرٹیکل خاتمے کے بعد بھارت نے وادی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اور اس ظلم کے خلاف جس نے بھی آواز اٹھانے کی کوشش کی اُسے حراست میں لے لیا گیا۔

بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت 500 سے زائد بے گناہ کشمیریوں اور رہنماؤں کو مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا۔

تازہ رپورٹ کے مطابق، سری نگر میں شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں عارضی طور پر حراستی مرکز بنائے گئے، علاوہ ازیں بارہ مولہ اور گریج میں دوسرے ایسے مراکز میں تقریباً500 کشمیریوں کو قید کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے دلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کو جیل بنا دیا

رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے نور باغ میں بھارتی فوج نے بے گناہ نوجوان کو شہید کیا جس کے بعد علاقہ مکینوں نے فوج کے خلاف شدید احتجاج کیا تو انہیں منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے غیرقانونی کرفیو نافذ کردیا جس کے تحت بیک وقت پانچ لوگ کہیں بھی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے علاقوں میں انٹرنیٹ اور ٹی وی سروس بھی بند کردی جبکہ مقامی یا غیرملکی صحافیوں کو بھی مقبوضہ وادی میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں