کینیڈین ایجنسیوں کی خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سکھ علیحدگی پسندوں کے خاتمے کےلیے بھارتی حکومت نے لارنس بشنوئی کو ٹاسک دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (آر سی ایم پی) کی ایک خفیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لارنس بشنوئی، بشنوئی گینگ کا سرغنہ جو کہ بھارت میں قید ہے وہ جیل میں بیٹھ کر بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ اور کنٹریکٹ کلنگ کررہا ہے۔
‘گلوبل نیوز’ کی طرف سے رپورٹ کردہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بشنوئی گینگ نہ صرف کینیڈا میں اپنی پرتشدد سرگرمیوں کو بڑھا رہا ہے بلکہ سکھ علیحدگی پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس کے علاوہ بشنوئی گینگ بھارت کے لیے خطرہ سمجھے جانے والے دیگر عوامل کو بھی نشانہ بنانے کے لیے بھارتی حکومت کی جانب سے کام کررہا ہے۔
یہ خفیہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظر عام پر آئی ہے جب ہندوستان اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں جبکہ لارنس اس وقت گجرات کی سابرمتی جیل میں قید ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے حملہ کیا تو پاکستان کا دفاع کریں گے، خالصتانی سکھوں کا اعلان
‘گلوبل نیوز’ میں بدھ، 14 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کا بھارتی حکومت، گجرات کے محکمہ جیل خانہ جات یا ہندوستانی ہائی کمیشن نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بشنوئی 2015 سے بھارت کی جیل میں ہیں تاہم وہ مبینہ طور پر وہاں سے اپنی تنظیم چلا رہا ہے، وہ گولڈی برار (ستیندرجیت سنگھ) جیسے ساتھیوں کے ساتھ بھارت، شمالی امریکا اور یورپ میں پھیلے ہوئے تقریباً 700 اراکین کے نیٹ ورک کی نگرانی کرتا ہے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی سرکاری اہلکاروں نے خالصتان کے حامی رہنماؤں پر حملے کرنے کے لیے بشنوئی سنڈیکیٹ جیسے گروپوں کو استعمال کیا ہے، رپورٹ میں خاص طور پر 2023 میں سرے، بی سی میں ہردیپ سنگھ ننجر کے قتل اور ونی پیگ میں سکھدون سنگھ کے قتل کا ذکر ہے۔


