The news is by your side.

Advertisement

پلواما حملہ: بھارتی حکومت نے 12 سال قبل مارے گئے عبدالرشید غازی کو ماسٹر مائنڈ قراردے دیا

نئی دہلی: بھارتی حکومت پلواما حملے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اب اُس نے حملے کا ماسٹر مائنڈ 2007 میں ہلاک ہونے والے عبدالرشید غازی کو قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق مودی سرکارکا پلواما حملے پر ایک اور ڈرامہ سامنے آیا جس پر بھارتی میڈیا نے غلط رپورٹنگ پر نیا ریکارڈ قائم کرلیا۔ بھارتی میڈیا نے بغیر کسی تصدیق کہ 2007میں ہلاک عبدالرشیدغازی کوپلواماحملےکامرکزی کردار ٹھہرا دیا جبکہ اُن کا مقام بھی معلوم کرنے کا دعویٰ کیا۔

یاد رہے کہ عبدالرشیدغازی اسلام آباد لال مسجد میں ہونے والے 2007 کے آپریشن کےدوران2007مارا گیا تھا جبکہ بھارتی میڈیا نے حکومت کو خوش کرنے کے لیے انہیں زندہ قرار دے ڈالا۔

مزید پڑھیں: پلوامہ حملہ : جاوید اختر کے متنازعہ ٹوئٹ پر اداکار شان شاہد کا کرارا جواب

دوسری جانب حملے کے مرکزی شخص عادل ڈار کا بھی بھارتی میڈیا پر مبینہ انٹرویو نشر کیا گیا جس میں صحافتی اقدار کے معیار کو دیکھا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں 46 فوجی ہلاک ہو ئے تھے جس کے بعد بھارت نے واویلا مچاتے ہوئے پاکستان پر الزام عائد کردیا تھا۔

بعد ازاں بھارتی فوج نے ضلع پلواما میں آپریشن کے نام پر بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گیارہ کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا جبکہ مسلمانوں کو املاک کو بھی نذر آتش کیا گیا تھا۔

حریت قیادت نے بھارتی بربریت کے خلاف وادی میں ہڑتال کی کال دی، جس پر پورے مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے، کاروباری مراکزبند رہے اورٹرانسپورٹ معطل رہی جبکہ کٹھ پتلی انتظامیہ نے انٹرنیٹ اورموبائل سروس بند کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں غیرعلانیہ کرفیو نافذ کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پلواما حملہ : بھارت الیکشن کی آڑ میں مس ایڈونچر کررہا ہے، شاہ محمود قریشی

دوسری جانب پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شواہد مانگے۔ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی بربریت جاری ہے، دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کو اجاگر کریں،دنیا کی ترجیحات میں کشمیر نہیں ہے لیکن دنیا اتنی بے حس اور لاتعلق نہیں ہوسکتی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے پاس پلواما حملے سے متعلق کسی قسم کے کوئی شواہد ہیں تو پاکستان تعاون کے لیے تیار ہے مگر مودی سرکار نے الزام لگانے کے علاوہ پاکستان سے کوئی تعاون نہیں کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں