site
stats
عالمی خبریں

کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں، بھارتی میڈیا کا اعتراف

نئی دہلی: کلبھوشن کے معاملے پرواویلا مچانے والی مودی سرکار کومنہ کی کھانا پڑی، عالمی عدالت میں کلبھوشن کا معاملہ لے جانے کا کوئی فائدہ نہیں،بھارتی میڈیا کواعتراف کرنا پڑا۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر عالمی عدالت انصاف میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بھارتی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی اپنے دفاعی اور قومی معاملات پر بین الاقوامی عدالت برائے انصاف کے دائرہ اختیار کو ختم کر چکا ہے اور پاکستان کلبوشن کے معاملے پرعالمی عدالت کے دائرہ اختیارکوچیلنج کرسکتا ہے۔

بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنائے جانے پر مودی سرکار بوکھلا گئی جب کہ نئی دلی سرکار کی جلد بازی کا پول بھارتی میڈیا نے کھول دیا ہے، بھارتی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ پھانسی پر عمل درآمد روکنے کے لیے بین الاقوامی عدالت کو حکم دینا ہوتا ہے، اس معاملے میں ایسا نہیں ہوا۔


مزید پڑھیں : کلبھوشن کیس: عالمی عدالتِ انصاف 15 مئی کو سماعت کرے گا


کلبھوشن کے بارے میں عالمی عدالت میں درخواست کی سماعت پندرہ مئی کو ہوگی

آئی سی جے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’کلبھوشن سے متعلق کیس کی سماعت مرکزی دفتر امن محل میں عوامی سطح پر کی جائے گی اور کارروائی براہ راست بھی کی جائے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت کے آئی سے جے کی ویب سائٹ اور اقوام متحدہ کے ویب ٹی وی کے علاوہ مقامی چینلز پر بھی نشر کی جائے گی۔

اس سے قبل بھارتی میڈیا نے یہ خبر نشر اور شائع کی تھی کہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے بھارتی حکومت کی درخواست پر کلبھوشن جادیو کی پھانسی پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا ہے۔


پڑھیں: کلبھوشن کی سزائے موت رکوانے کے لیے بھارت نے عالمی عدالت سے رجوع کرلیا


 یاد رہے کہ بھارت نے اپنے جاسوس کلبھوشن کو بچانے کے لیے عالمی عدالتِ انصاف سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھاکہ ’’سابق نیوی افسر کو گرفتار کیا گیا جس کے بعد پاکستان نے اُس سے متعلق کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کیں۔
واضح رہے کہ بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو  3مارچ 2016 کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ جس کے بعد بھارت نے تسلیم کیا تھا کہ بلوچستان سے پکڑا جانے والا جاسوس کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کاافسر تھا، بحریہ سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی تھی۔

اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top