ہفتہ, اگست 15, 2026
اشتہار

پولیس وین کو روکنے والی بھارتی ماڈل کو ہراساں کیا جانے لگا

اشتہار

حیرت انگیز

(5 اگست 2026): بھارت میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس وین کو اکیلے روکنے والی ماڈل ریا آہیر نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں مسلسل ہراساں اور آن لائن بدسلوکی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ماڈل ریا آہیر نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ لوگ انہیں وائرل لڑکی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی لڑکی کے طور پر یاد رکھیں جس نے طلبہ کو غیر قانونی طور پر حراست میں لینے سے روکا۔

ریا آہیر نے کہا کہ میں میڈیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں وہ لڑکی نہیں ہوں جو ممبئی پولیس کو روکنے کی وجہ سے وائرل ہوئی تھی، میں وہ لڑکی ہوں جس نے 20 بچوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں جانے سے روکا، براہ کرم اپنا بیانیہ بدلیں، اپنا نقطہ نظر بدلیں۔

بھارتی ماڈل نے الزام لگایا کہ انہیں جس ردعمل کا سامنا کرنا پڑا وہ آن لائن ٹرولنگ سے کہیں آگے کی چیز ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی سوشل میڈیا پر ان کے بارے میں توہین آمیز پوسٹس شیئر کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اسے ٹرولنگ نہیں کہوں گی کیونکہ یہ ٹرولنگ نہیں بلکہ ایک جرم ہے۔

ریا آہیر کے مطابق کچھ سوشل میڈیا پوسٹوں میں ان پر جسم فروخت کرنے کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ذرا ان کے ذہنوں میں موجود گندگی کا تصور کریں کہ وہ ایسے تبصرے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ 27 جولائی کو شکایت درج کروانے کے باوجود اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے، نہ یہ بیٹیوں کو پڑھنے دے رہے ہیں اور نہ یہ بیٹیوں کو بچنے دے رہے ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں