The news is by your side.

Advertisement

سہ تار جو ستار ہو گیا!

برصغیر میں موسیقی اور راگ راگنیوں کے ساتھ کئی خوب صورت سازوں نے بھی شائقین کے ذوق کی تسکین کی۔

ان میں بعض ساز ایسے ہیں جو ایجاد کے بعد مختلف ادوار میں ماہر سازندوں کی اختراع سے مزید سحرانگیز اور پُرلطف ثابت ہوئے۔ ستار وہ ساز ہے جس سے کلاسیکی موسیقی کا ہر شائق واقف ہے، مگر یہ کب ایجاد ہوا، اسے برصغیر میں کس نام سے جانا جاتا تھا اور کیا ستار کسی دوسرے ساز کی ایک شکل ہے؟

آئیے، اس ساز سے متعلق معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔

کبھی یہ سہ تار کے نام سے جانا جاتا تھا جسے بعد میں ستار کہا جانے لگا۔ ستار دراصل ایک پرانے ہندی ساز وینا کی سادہ شکل ہے۔ برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کی دنیا اور اس کے شائقین میں اب یہ ساز ستار کے نام سے ہی مشہور ہے۔ چند دہائیوں قبل تک اسے بہت شوق اور دل چسپی سے سنا جاتا ہے اور آج بھی موسیقی کی محافل میں ستار لازمی ہوتا ہے۔

محققین کے مطابق یہ ساز امیر خسرو کا ایجاد کردہ ہے، لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود امیر خسرو نے اپنی تحاریر میں اس ساز کا ذکر نہیں کیا۔ ماہرین کے ایک گروہ نے اپنی کھوج کے بعد یہ بھی لکھا ہے کہ یہ ساز اصل میں فارس یا کاکیشیا میں مروج تھا اور وہیں سے ہندوستان میں آیا، مگر معتبر اور مستند حوالوں میں اس ساز یعنی ستار کا موجد امیر خسرو کو ہی بتایا گیا۔

مغل دور سے لے کر عہدِ حاضر تک اس ساز کو کئی باکمال فن کار ملے، لیکن جدید دور میں مزید چند دہائیاں بیت جانے پر یہ ساز اور اس کے تار انگلیوں سے چھیڑ اور سازندے کی مہارت کو ترس جائیں گی۔

کلاسیکی آلاتِ موسیقی کا علم رکھنے والے اور سازوں کی زبانی آپ کو معلوم ہو گا کہ ستار کے کدو کو تونبا کہتے ہیں جب کہ اس کی لمبی کھوکھلی لکڑی کو ڈانڈ کہا جاتا ہے۔ تونبے کی چھت پر ہڈی کے دو پل سے ہوتے ہیں جو جواریاں کہلاتے ہیں، ان پر سے تاریں گزرتی ہیں۔

ڈانڈ پر لوہے یا پیتل کے قوس سے بنے ہوتے ہیں جنھیں پردے یا سندریاں پکارا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سِرا تونبے کے پیچھے ایک کیل سے بندھا ہوتا ہے اور دوسرے کو ڈانڈ میں لگی ہوئی کھونٹیوں سے باندھ دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ستار کے تاروں کی تعداد تو متعیّن نہیں رہی، مگر زیادہ تر اس میں چار تاریں، دو چکاریاں اور تیرہ طربیں رکھی جاتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں