امریکا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات پر مسلم کمیونٹی میں ایک بار پھر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذہبی نفرت کا تازہ واقعہ ریاست یوٹا میں پیش آیا ہے جہاں ایک انتہا پسند نے محض مسلمان ہونے پر ایک مسلم کو چاقو سے حملہ کر دیا۔
یوٹا کے ایک شاپنگ مال میں کام کا معمول اس وقت ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا جب ایک بھارتی مسلمان ملازم کو ایک شخص کی طرف سے نفرت انگیز حملے میں چاقو کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کی گئی۔
قاتلانہ حملہ کرنے والے دہشت گرد نے پولیس کو بتایا کہ وہ "مسلمانوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔”
عدالتی دستاویزات کے مطابق 48 سالہ ملزم لارسن نے اعتراف کیا کہ اس نے جان بوجھ کر اس شخص کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ مسلمان تھا۔
متاثرہ شخص، جس کی شناخت سہیل کے نام سے دوستوں نے کی، ایک مال کیوسک پر کام کر رہا تھا جب مشتبہ شخص اس کے پاس آیا اور سوالات کرنے لگا۔
لونا نونز، جو ایک قریبی جیولری اسٹور پر کام کرتی ہیں، نے اے بی سی سالٹ لیک سٹی کو بتایا کہ لارسن نے پہلے پوچھا کہ سہیل کہاں سے ہے۔
"اس نے پوچھا ‘تم کہاں سے ہو؟’ اور اس نے بتایا ‘میں ہندوستان سے ہوں، میرا نام سہیل ہے لارسن نے پھر پوچھا، ‘کیا تم مسلمان ہو؟’ سہیل نے ہاں میں کہا، اور اس نے بس اسے چھرا مارنا شروع کر دیا۔



